بھارتی سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو جمہوری احتساب کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر تقریبا ایک ماہ سے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج جاری تھا۔ طلباء کے تین مطالبات میں سے ایک وزیر تعلیم دھرمیندرا پردھان کا استعفیٰ تھا۔ ہفتے کے روز روز دھرمیندرا پردھان نے ایکس پر اعلان کیا کہ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔
ششی تھرور نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس بات کا اعتراف ہے کہ جمہوریت میں احتساب سے ہمیشہ کے لیے بچا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کئی ہفتوں تک طلبہ، والدین اور شہریوں کی پُرامن مگر پُرعزم آوازوں کے بعد سامنے آیا، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکا۔
ششی تھرور نے مزید کہا کہ اس دوران بہت سے نوجوانوں کو اپنے جمہوری حق، یعنی پُرامن احتجاج، کے استعمال پر غیر ضروری پولیس تشدد اور طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ہر شہری کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔
تھرور کا کہنا تھا کہ ‘احتساب صرف ایک استعفے پر ختم نہیں ہوتا۔ وہ گہری ناکامیاں، جن کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی، اب شفاف اصلاحات، ادارہ جاتی ذمہ داری اور ایسے اقدامات کے ذریعے دور کی جانی چاہییں جن سے کسی نوجوان بھارتی کا مستقبل دوبارہ خطرے میں نہ پڑے’۔
ششی تھرور نے اپنے بیان میں کہا کہ جن طلبہ نے مارچ کیا، آواز اٹھائی اور پُرامن طور پر اپنی جدوجہد جاری رکھی، انہیں یہ یقین دلایا جانا چاہیے کہ یہ اصلاحات کا آغاز ہے، کہانی کا اختتام نہیں۔
دوسری جانب وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد دھرنے کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ مزید دو مطالبات پر عمل در آمد تک دھرنا جاری رہے گا۔