گوگل جیسی بڑی ٹیک کمپنیاں اپنے اے آئی ٹولز پر اثر انداز ہو کر غلط معلومات پھیلاتی ہیں، تحقیق میں انکشاف

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اے آئی سروسز کو غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس پر اب گوگل اور دیگر کمپنیوں نے اپنی پالیسیوں اور نظام میں تبدیلیاں شروع کر دی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارےبی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ افراد اور ٹیکنالوجی کمپنیاں سرچ انجن اور چیٹ بوٹس کو اس انداز میں متاثر کر سکتے ہیں کہ وہ عوام کو غلط یا جھوٹی معلومات فراہم کریں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف چیٹ بوٹس تک محدود نہیں بلکہ گوگل سرچ کے اے آئی فیچرز میں بھی یہ دیکھا گیا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ گوگل کی “اے آئی اوور ویوز” اور دیگر چیٹ بوٹس بعض اوقات ایک ہی ویب پیج یا پوسٹ کی بنیاد پر جواب تیار کر لیتے ہیں، جس سے غلط یا جانبدار معلومات پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کمزوری کو بعض افراد اور ادارے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں ایک مثال کے طور پر بتایا گیا کہ ایک صحافی نے تجرباتی طور پر ایک جھوٹا مضمون شائع کیا، جس کے بعد گوگل اور چیٹ جی پی ٹی جیسے نظاموں نے اس غلط معلومات کو درست سمجھ کر آگے پھیلایا۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ اب لاکھوں افراد روزانہ ان اے آئی ٹولز پر انحصار کرتے ہیں۔ غلط معلومات نہ صرف عام صارفین کو متاثر کر سکتی ہیں بلکہ صحت، مالی معاملات اور دیگر اہم فیصلوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔

گوگل نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اس نے اپنی اسپام اور غلط معلومات سے متعلق پالیسیوں میں وضاحت کی ہے تاکہ اے آئی سسٹمز کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ کمپنی کے مطابق وہ پہلے ہی ایسے مواد کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اپنے سسٹمز کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے۔

تاہم رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ جیسے جیسے گوگل اور دیگر پلیٹ فارم سختی کرتے ہیں، غلط معلومات پھیلانے کے نئے طریقے سامنے آ جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں