یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ رکن ممالک نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو متاثر کرنے کے الزام میں ایران سے وابستہ بعض شخصیات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
کایا کالاس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت امن مذاکرات اور نازک جنگ بندیوں کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی ڈرونز اب بھی آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، جبکہ یورپی یونین کے وزرا نے واضح کر دیا ہے کہ تہران کے ایسے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔
ان کے مطابق اسی تناظر میں برسلز میں ہونے والے اجلاس کے دوران یورپی یونین کے رکن ممالک نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت محدود کرنے پر ایران سے وابستہ شخصیات کے خلاف پابندیوں کی منظوری دی۔