ایران اور اسرائیل کے درمیان پیر کے روز ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد دو ماہ سے جاری نازک جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ جنگ بندی اپریل میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی روکنے کے بعد عمل میں آئی تھی۔
اسرائیل کے مختلف علاقوں میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد خطرے کے سائرن بج اٹھے جبکہ فضائی دفاعی نظام کی کارروائیوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس بھی شامل ہے۔
یہ اپریل کے بعد پہلا بڑا فوجی تصادم ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کا موقع دینے کے لیے جنگی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم کئی ہفتوں پر محیط مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے اور اب خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
حالیہ کشیدگی کا آغاز اتوار کو اس وقت ہوا جب اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ ایران نے ایسے حملوں کے جواب میں کارروائی کی دھمکی دے رکھی تھی۔
چند گھنٹوں بعد ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق متعدد میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ باقی حملوں کے جواب میں ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطے کا عندیہ دیا تھا۔ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ نیتن یاہو کے پاس ایران کے ساتھ معاہدہ قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5 فیصد اضافے کے بعد 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
کینیڈا اور برطانیہ نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ قطر، جو ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے بھی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ادھر یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں اسرائیل کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔