صدر ازبکستان، شوکت مرزا ئیوف کا 3.7ارب ڈالر کے توانائی منصوبے شروع کرنے کا اعلان

صدر ازبکستان، شوکت مرزائیوف نے گزشتہ روز تاشقند میں توانائی کے مکمل شدہ اور نئے منصوبوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے توانائی کے شعبے میں 3.7 ارب ڈالر کے مکمل شدہ منصوبوں اور چھ نئے منصوبوں کے آغاز کو ایک تاریخی موقع قرار دے دیا۔
تقریب کے دوران، 2,300 میگاواٹ کی مجموعی صلاحیت کے حامل پانچ شمسی اور ہوا کے منصوبے اور پانچ ہائی وولٹیج سب اسٹیشنز ، بخارا، نوائی، نمانگان، اور تاشقند صوبوں میں فعال کرنےکا اعلان کیا گیا۔
تقریب میں بتایا گیا کہ، ازبکستان میں پہلی بار 300 میگاواٹ کی پاور اسٹوریج سہولت، اندیجان اور فرغانہ صوبوں میں تعمیر کی گئی ہے، جبکہ کاشکادریا میں 400 میگاواٹ کا پاور پلانٹ، تاشقند میں ایک جدید CGTU، اور اندیجان، سرخندریا اور تاشقند صوبوں میں چار چھوٹے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ تعمیر کیے جا رہے ہیں۔مزید برآں، 2,500 میگاواٹ کی مجموعی صلاحیت کے حامل چھ توانائی کے انفراسٹرکچر کے منصوبے، جن کی مالیت 3.5 ارب ڈالر ہے، فرغانہ، سمرقند، نوائی، اور تاشقند کے ساتھ ساتھ تاشقند شہر میں شروع کیے جا رہے ہیں۔
صدارتی پریس سروس کے مطابق، ان منصوبوں کے ذریعے اگلے چند سالوں میں اضافی 9.5 ارب کلو واٹ بجلی پیدا کی جائے گی، 2.5 ارب کیوبک میٹر قدرتی گیس کی بچت ہوگی اور 4.6 ملین ٹن مضر گیسوں کے اخراج کو روکا جائے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ، 40 لاکھ سے زائد گھروں کو صاف اور بلا تعطل توانائی فراہم کی جائے گی۔ یہ منصوبے معیشت کے دیگر شعبوں میں 4 ارب ڈالر کی اضافی ویلیو پیدا کرنے میں مددگار ہوں گے۔
شرکاءکو بتایا گیا کہ، 2024 میں ملک کی کل بجلی کی پیداوار 84 ارب کلو واٹ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو 2016 کے مقابلے میں 25 ارب کلو واٹ زیادہ ہے۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ، یہ منصوبے Masdar، ACWA Power، Aksa Energy، اور چین و جرمنی کی معروف کمپنیوں کے تعاون سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبے مکمل طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری سے پایہ تکمیل تک پہنچ رہے ہیں، جو ہماری اصلاحات اور عالمی اعتماد کا مظہر ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ، اب تک 16 بڑے شمسی اور ہوا کے منصوبے، 3,500 میگاواٹ کی صلاحیت کے حامل، فعال ہو چکے ہیں، جس سے 2024 میں گرین انرجی کا حصہ %16 سے تجاوز کر گیا ہے۔ آئندہ پانچ سالوں میں ملک کی بجلی کی طلب 1.5 گنا بڑھ کر 120 ارب کلو واٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ازبکستان نے پیرس معاہدے کے تحت 2030 تک مضر گیسوں کے اخراج میں %35 کمی کا عہد کیا ہے۔
صدر مرزائیوف نے ان اہداف کو 2050 تک بڑھانے کا عندیہ دےدیا۔
یا ددہے،گزشتہ سال کے آخر میں، صدر مرزائیوف نے 2.4 گیگاواٹ کی کل صلاحیت کے حامل چھ گرین پاور پلانٹس اور نوائی صوبے کے تمڈی ضلع میں ونڈ پاور پلانٹ کے پہلے مرحلے کا افتتاح بھی کیا تھا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں