ازبکستان کی لوک داستان

بلبلِ گویا

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ازبکستان کے ایک سرسبز و شاداب علاقے میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا ایک حسین باغ تھا جس میں نایاب پھل اور خوشبودار پھول کھلا کرتے تھے۔ بادشاہ کو اپنے باغ سے بے حد محبت تھی۔

ایک صبح جب بادشاہ باغ کی سیر کے لیے نکلا تو اس نے دیکھا کہ درختوں کے کئی قیمتی پھل غائب ہیں۔ زمین پر ایک سنہری پنکھ پڑا ہوا تھا جو سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ بادشاہ حیران رہ گیا۔ اس نے پہرے داروں سے پوچھا، لیکن کسی کو کچھ معلوم نہ تھا۔

بادشاہ نے اپنے تینوں بیٹوں کو بلایا اور کہا:

“جو شخص اس پراسرار چور کو تلاش کرے گا، وہی میرے بعد تخت کا وارث ہوگا۔”

تینوں شہزادے سفر پر روانہ ہو گئے۔

پہلا شہزادہ چند دنوں بعد ہی تھک ہار کر واپس آ گیا۔ دوسرا بھی راستے کی مشکلات سے گھبرا گیا۔ مگر سب سے چھوٹا شہزادہ ہمت والا اور نیک دل تھا۔ اس نے سفر جاری رکھا۔

راستے میں اسے ایک زخمی ہرن ملا۔ شہزادے نے اس کی مرہم پٹی کی اور اسے پانی پلایا۔ کچھ فاصلے پر ایک بوڑھا مسافر بھوکا بیٹھا تھا۔ شہزادے نے اپنا کھانا اس کے ساتھ بانٹ لیا۔ بوڑھے نے خوش ہو کر دعا دی:

“بیٹا! تمہاری نیکی تمہیں منزل تک پہنچائے گی۔”

کئی دنوں کے سفر کے بعد شہزادہ ایک گھنے جنگل میں پہنچا۔ وہاں ایک بلند درخت پر ایک نہایت خوبصورت پرندہ بیٹھا تھا۔ اس کے پر سونے کی طرح چمک رہے تھے۔

یہی بلبلِ گویا تھی۔

شہزادہ حیران رہ گیا، کیونکہ وہ پرندہ انسانوں کی زبان میں بات کر سکتا تھا۔

بلبل نے کہا:

“اے شہزادے! میں جانتی ہوں کہ تم مجھے تلاش کرتے ہوئے یہاں تک آئے ہو۔ لیکن تم مجھ تک اپنی طاقت سے نہیں بلکہ اپنی نیکیوں کی وجہ سے پہنچے ہو۔”

شہزادے نے پوچھا:

“نیکی اتنی طاقتور کیسے ہو سکتی ہے؟”

بلبل مسکرائی اور بولی:

“جو انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، قدرت اس کے لیے راستے آسان کر دیتی ہے۔”

بلبلِ گویا نے شہزادے کی رہنمائی کی اور اسے ایک قلعے تک پہنچایا جہاں ایک ظالم جادوگر نے ایک شہزادی کو قید کر رکھا تھا۔ شہزادے نے بہادری سے مقابلہ کیا اور شہزادی کو آزاد کرا لیا۔

واپسی پر بلبلِ گویا بھی ان کے ساتھ تھی۔

جب شہزادہ محل پہنچا تو بادشاہ نے اس کی داستان سنی۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کے بیٹے نے صرف ایک پرندہ ہی نہیں ڈھونڈا بلکہ اپنی ہمت، رحم دلی اور دانائی کا بھی ثبوت دیا ہے۔

بادشاہ نے خوش ہو کر اعلان کیا:

“آج سے یہی میرا جانشین ہوگا، کیونکہ سلطنت تلوار سے نہیں بلکہ اچھے کردار سے چلتی ہے۔”

محل میں جشن منایا گیا اور بلبلِ گویا کی آواز دیر تک فضاؤں میں گونجتی رہی۔

سبق:
نیکی، صبر اور ہمت انسان کو وہ کامیابی دلاتے ہیں جو طاقت اور دولت بھی نہیں دلا سکتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں