سوڈان میں جاری جنگ کے دوران خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں مسلح گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے اہلکاروں نے اغوا کیا، ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور پھر رہائی کے بدلے تاوان وصول کیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، متاثرہ خواتین نے کہا کہ انہیں کئی دن تک قید رکھا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں ان کے اہلِ خانہ سے تاوان کی رقم بھی طلب کی گئی۔ بعض صورتوں میں یہ رقم ہزاروں ڈالر میں وصول کی گئی۔
ایک 38 سالہ خاتون نے اے پی کو بتایا کہ انہیں مغربی سوڈان کے ایک دور دراز علاقے میں اغوا کیا گیا جہاں انہیں دو دن تک قید رکھا گیا۔ ان کے مطابق انہیں بھوکا، ننگا اور شدید جسمانی تشدد کے ساتھ رکھا گیا اور بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اغوا کاروں نے انہیں فون دیا اور مجبور کیا کہ وہ اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ کریں اور اپنی رہائی کے لیے رقم کا انتظام کریں۔ ان کے مطابق ان کے خاندان سے مختلف مراحل میں رقم وصول کی گئی اور بالآخر تقریباً 700 ڈالر کے عوض انہیں چھوڑا گیا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق سوڈان کی جنگ میں جنسی تشدد ایک نمایاں ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اور جنگ کے آغاز کے بعد ایسے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ بعض متاثرین کو غلامی اور تاوان کے بدلے قید میں رکھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدد خواتین نے بتایا کہ انہیں قید کے دوران گھریلو کام، کھیتی باڑی اور دیگر جبری کاموں پر بھی مجبور کیا گیا، جبکہ رات کے وقت ان کے ساتھ مسلسل زیادتی کی جاتی رہی۔
انسانی حقوق کے اداروں اور مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر واقعات میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) پر الزام عائد کیا جاتا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ میں شامل دیگر گروہوں پر بھی ایسے الزامات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سوڈان میں جاری تنازع کے باعث اغوا برائے تاوان کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے متاثرہ خاندان شدید مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ کئی خاندان اپنی ملکیتیں بیچ کر تاوان ادا کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد بھی وہ شدید ذہنی اور جسمانی صدمے کا شکار ہیں اور انہیں طبی علاج اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے، تاہم وسائل کی کمی کے باعث یہ سہولتیں دستیاب نہیں ہے۔