اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکہ کے سوا تقریباً تمام سفارت کاروں نے اسرائیل سے جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے اور مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل کی جانب سے بیروت کے جنوبی مضافات پر ممکنہ حملوں کی دھمکی کے بعد ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جبکہ پناہ گاہیں بھی بھر گئیں ہیں۔ ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں مزید اندر تک پیش قدمی کی ہے، جس سے وسیع تر فوجی قبضے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو لبنان پر حملے سے باز رہنے اور حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے نہ کرنے پر آمادہ کر لیا ہے۔
ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے بیروت پر حملے کیے تو وہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات معطل کر سکتا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کے لیے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی ضروری ہے۔
سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی اعلیٰ عہدیدار مارتھا اما اکیا پوبی نے کہا کہ بلیو لائن کے شمال میں اسرائیلی فوج کی موجودگی لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی واضح خلاف ورزی ہے اور اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔