امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ‘انویڈیا’ نے ایک نئی طاقتور چِپ متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی جدید صلاحیتیں براہِ راست لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹروں تک پہنچائی جائیں گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نئی پیش رفت سے ذاتی کمپیوٹروں کے استعمال کا انداز بدل جائے گا۔
تائیوان کے شہر تائی پے میں منعقدہ سالانہ تقریب کے دوران کمپنی کے سربراہ جینسن ہوانگ نے نئی چِپ کی رونمائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ذاتی کمپیوٹروں کو ایک نئی شکل دے گی اور انہیں پہلے سے کہیں زیادہ ذہین بنائے گی۔
کمپنی کے مطابق نئی چِپ میں سنٹرل پراسیسنگ اور گرافکس پراسیسنگ کی صلاحیتیں ایک ہی نظام میں شامل کی گئی ہیں، جس کی مدد سے ایسے کمپیوٹر تیار کیے جائیں گے جو مصنوعی ذہانت کے پیچیدہ کام مقامی سطح پر انجام دے سکیں گے، یعنی معلومات کو دور دراز سرورز پر بھیجنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
یہ نئی چِپ مختلف معروف کمپیوٹر ساز کمپنیوں کے آئندہ آنے والے ماڈلز میں استعمال کی جائے گی۔ ان کمپیوٹروں میں مصنوعی ذہانت کے معاون نظام شامل ہوں گے جو صارف کی آواز سمجھ سکیں گے، دستاویزات کا جائزہ لے سکیں گے، معلومات تلاش کرنے میں مدد دیں گے اور مختلف روزمرہ کام انجام دے سکیں گے۔
امریکی کمپنی مائیکروسافٹ نے بھی اس منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی چِپ سے چلنے والے کمپیوٹر طاقتور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور پیچیدہ کاموں کو بہتر انداز میں سنبھال سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے صارفین کو زیادہ چوائس ملیں گے اور مستقبل میں گھریلو سطح پر مصنوعی ذہانت کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی آئندہ دس برسوں میں کمپیوٹر انڈسٹری کا رخ بدل سکتی ہے۔
اس موقع پر کمپنی نے ڈیٹا مراکز کے لیے نئی سنٹرل پراسیسنگ چِپس اور ایک انسان نما روبوٹ کا نمونہ بھی پیش کیا، جسے تحقیق اور تعلیمی شعبوں میں استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
تاہم مصنوعی ذہانت پر مبنی ذاتی کمپیوٹروں کے حوالے سے رازداری کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے معاون نظام صارف کی تمام معلومات تک رسائی حاصل کریں تو نجی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب سرمایہ کاروں نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا، جس کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ اس کے بعض حریف اداروں کے حصص میں کمی ریکارڈ کی گئی۔