ایران پر امریکی جنگ کا 95 واں روز، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے لڑائی روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بیروت کے جنوبی علاقوں پر حملوں کا حکم دیا تھا۔ تاہم بعد میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے بات کی اور مزید حملوں سے گریز کرنے پر زور دیا۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی پورے خطے، بشمول لبنان، پر لاگو ہوتی ہے اور اس کی کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

ادھر اسرائیل میں بعض حکومتی شخصیات نے امریکی دباؤ کے باوجود حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے سکیورٹی اہداف حاصل کرنے کے لیے ضروری کارروائیاں جاری رکھنی چاہییں۔

دوسری طرف لبنان میں کشیدگی برقرار ہے۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجی اہداف کے خلاف راکٹ اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ایک سفارتی کامیابی قرار دیا ہے، تاہم فریقین کے بیانات اور زمینی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی اب بھی نازک مرحلے میں ہے اور کسی بھی وقت حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں