ازبکستان نے بچوں میں کینسر کے علاج، جلد تشخیص اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اہم اصلاحات نافذ کی ہیں، جن کے نتیجے میں زیادہ بچوں کی جانیں بچانے اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ازبکستان نے بچوں کے کینسر سے متعلق عالمی اقدام اور کینسر کی ادویات تک رسائی کے عالمی پلیٹ فارم میں شمولیت اختیار کر کے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
ان اقدامات کا مقصد بچوں میں کینسر کے علاج کی کامیابی کی شرح بڑھانا، معیاری ادویات کی دستیابی یقینی بنانا اور متاثرہ بچوں و ان کے خاندانوں کے لیے معاون نظام کو بہتر بنانا ہے۔
فروری 2026 میں ازبکستان کی وزارتِ صحت اور سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ ہسپتال کے درمیان چار سالہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت بچوں کے کینسر کے علاج کی صلاحیت میں اضافہ، طبی طریقۂ کار میں بہتری اور ماہرین کی تربیت کو فروغ دیا جائے گا۔
وزارتِ صحت کی مشیر ڈاکٹر المیرا باسیت خانوا نے کہا کہ بچوں کے کینسر کے علاج میں بہتری صرف ادویات تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے تربیت یافتہ عملہ، مؤثر ریفرل نظام اور خاندانوں کی مسلسل معاونت بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق بچوں میں ہونے والے اکثر کینسر جینیاتی عوامل سے منسلک ہوتے ہیں اور ان کی مؤثر روک تھام ممکن نہیں، تاہم بروقت تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے زیادہ تر مریضوں کو صحت یاب کیا جا سکتا ہے۔
سال 2024 میں ازبکستان کینسر کی ادویات تک رسائی کے عالمی پلیٹ فارم میں شامل ہوا، جس سے معیاری ادویات کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملی۔ اس پروگرام کے تحت پہلی ادویات جنوری 2025 میں ملک پہنچیں، جبکہ اب تک بچوں کے کینسر کے علاج کے لیے 33 ضروری ادویات ملک بھر میں تقسیم کی جا چکی ہیں۔
حکام کے مطابق صرف 2025 کے دوران 1,200 سے زائد بچوں نے ان ادویات کی مدد سے علاج حاصل کیا۔
ازبکستان میں عالمی ادارۂ صحت کی نمائندہ ڈاکٹر اشینا خلاقدینہ نے کہا ہے کہ ہر بچے کو بروقت تشخیص، معیاری علاج اور صحت مند مستقبل کا حق حاصل ہے، اور ازبکستان نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط سیاسی عزم اور عالمی شراکت داری بچوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکتی ہے۔