ٹرمپ شی جن پنگ ملاقات: دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے لیے یہ ملاقات کیوں اہم ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین اور صدر شی جن پنگ سے متوقع ملاقات کو عالمی سیاست کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ آیئے جانتے ہیں کہ اس ملاقات میں کن بڑے موضوعات پر بات ہوگی؟

مشرق وسطی اور آبنائے ہرمز
سب سے فوری اور حساس موضوع ایران سے متعلق صورتحال ہے۔امریکہ چاہتا ہے کہ چین ایران پر اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ جنگ کم ہو اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکے۔دوسری طرف چین براہِ راست جنگ میں فریق بننے سے گریز کر رہا ہے، لیکن وہ ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور توانائی کے تعلقات کو بھی مکمل طور پر نہیں چھوڑنا چاہتا۔

تائیوان کا مسئلہ
تائیوان اس ملاقات کا سب سے حساس سیاسی نکتہ ہے۔چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے جبکہ امریکہ اس کی دفاعی مدد کرتا ہے۔ چین نے حالیہ برسوں میں تائیوان کے گرد فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔امریکہ چاہتا ہے کہ صورتحال مزید نہ بگڑے، جبکہ چین اس معاملے پر اپنے مؤقف کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

تجارتی جنگ اور ٹیرف
دونوں ممالک کے درمیان کئی سال سے جاری تجارتی تنازع اس ملاقات کا اہم حصہ ہوگا۔امریکہ نے چینی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگائے، جبکہ چین نے امریکی زرعی مصنوعات اور خام مال کی خریداری کم کر دی۔ اس سے دونوں ممالک کی معیشتوں کے ساتھ ساتھ عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہوئی۔اب امریکہ چاہتا ہے کہ چین دوبارہ امریکی زرعی مصنوعات خریدے، جبکہ چین چاہتا ہے کہ امریکہ نئی تجارتی تحقیقات اور ممکنہ ٹیکسوں میں نرمی کرے۔

ٹیکنالوجی، چپس اور مصنوعی ذہانت
یہ ملاقات مستقبل کی ٹیکنالوجی کی جنگ سے بھی جڑی ہے۔امریکہ نے جدید کمپیوٹر چپس اور ٹیکنالوجی کی برآمد پر پابندیاں لگا رکھی ہیں تاکہ چین کی ترقی سست ہو۔چین دوسری طرف مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید صنعت میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے، لیکن ماسے اب بھی امریکی چپس اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ماہرین اسے نئی سرد جنگ یعنی ٹیکنالوجی کی دوڑ قرار دے رہے ہیں۔

نایاب معدنیات اور توانائی
چین دنیا میں نایاب معدنیات کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے، جو اسمارٹ فونز، الیکٹرک گاڑیوں اور دفاعی صنعت کے لیے ضروری ہیں۔دوسری طرف امریکہ چین پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے لیکن مکمل طور پر آزاد ہونا آسان نہیں۔اسی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان ایک ممکنہ معاہدہ زیر بحث ہے، یعنی چین نایاب معدنیات دے اور امریکہ جدید چِپس کی برآمد میں نرمی کرے۔

امریکہ اور چین دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں ہیں۔ ان کے تعلقات خراب ہوں تو پوری عالمی معیشت متاثر ہوتی ہے۔یہ ملاقات طے کرے گی کہ دنیا ایک تعاون پر مبنی نظام کی طرف جائے گی یا ایک نئی سرد جنگ کی جنگ کی طرف۔

اپنا تبصرہ لکھیں