امریکی کمیشن کی بھارت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر بلیک لسٹ کرنے کی سفارش

واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے ایک بار پھر امریکی محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث “خصوصی تشویش رکھنے والا ملک” قرار دیا جائے۔

واشنگٹن میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران کمیشن کے ارکان، ماہرین اور امریکی قانون سازوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلت برادری کو درپیش مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

کمیشن کی چیئرپرسن وکی ہارٹزلر نے کہا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی حکومت امتیازی قوانین، مذہبی رہنماؤں کی گرفتاریوں اور اقلیتوں پر حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کی 28 میں سے 13 ریاستوں میں مذہب تبدیلی مخالف سخت قوانین نافذ ہیں، جن کے تحت بعض معاملات میں عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

کمیشن کے نائب چیئرمین آصف محمود نے الزام لگایا کہ بھارتی حکومت بیرون ملک بھی ناقدین اور اقلیتی رہنماؤں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر شمالی امریکہ میں سکھ رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کیا۔

امریکی رکن کانگریس کرس اسمتھ نے بھارت کے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (FCRA) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے ذریعے عیسائی اداروں، اسکولوں اور اسپتالوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

سماعت کے دوران ماہرین نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، انٹرنیٹ بندشوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف مقدمات پر بھی تشویش ظاہر کی۔

بھارتی حکومت اس سے قبل ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ ملک میں تمام مذاہب کو آئین کے تحت برابر حقوق حاصل ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں