شام کی موجودہ صورتحال پر غور کے لیے روس کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس ہوا، جس میں شام میں اپوزیشن کے کنٹرول کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر گفتگو کی گئی۔
اسرائیل کے اقدامات محدود اور عارضی ہیں: اسرائیلی مندوب
اجلاس کے دوران اسرائیلی مندوب نے سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی اقدامات محدود اور عارضی نوعیت کے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل شام کے مسلح گروہوں کے درمیان جاری لڑائی میں مداخلت نہیں کر رہا اور یہ اقدامات محض اسرائیل کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہیں۔
سعودی عرب کا اسرائیل پر سخت ردِعمل
سعودی عرب نے اجلاس میں اسرائیل کے بفر زون پر قبضے کو شام کی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ سعودی حکام نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔
علاقائی ردِعمل اور بین الاقوامی مؤقف
دوسری جانب، متحدہ عرب امارات نے شام کی ریاستی سالمیت اور قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے شامی فریقین سے تحمل اور حکمت عملی اپنانے کی اپیل کی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے بیان دیا کہ فاتح شامی قوتوں کا رویہ مستقبل میں ایران-شام تعلقات کا تعین کرے گا۔ حزب اللہ نے شام میں موجودہ تبدیلی کو خطرناک قرار دیا، جبکہ حماس نے شامی عوام کو آزادی اور انصاف کی جدوجہد میں کامیابی کی مبارکباد دی۔
مغربی ممالک کی شامی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی
کینیڈا نے بشارالاسد حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، آسٹریا، اور یونان نے شامی پناہ گزینوں کی درخواستوں پر کارروائی روک دی ہے۔
لروس میں بشارالاسد کے خاندان کو پناہ
واضح رہے کہ بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سابق شامی صدر اور ان کے خاندان کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ماسکو میں پناہ دی ہے۔