خصوصی رپورٹ، تاشقند اردو
9 مئی 2026 کو بھارتی اخبارات اور نیوز ویب سائٹس میں “آپریشن سندور” ایک بار پھر مرکزی موضوع بن کر سامنے آیا۔ گزشتہ سال مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی شدید فوجی کشیدگی کا ایک سال مکمل ہونے پر بھارتی میڈیا نے خصوصی رپورٹس، دفاعی تجزیے اور سیاسی مباحث شائع کئے، جن میں اس آپریشن کو بھارت کی “فیصلہ کن عسکری حکمت عملی” قرار دیا گیا۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق “آپریشن سندور” نے بھارتی افواج کے جنگی طریقہ کار میں بڑی تبدیلی پیدا کی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت نے جدید ڈرون سسٹمز، میزائل دفاع، سیٹلائٹ نگرانی اور مشترکہ فوجی آپریشنز پر خصوصی توجہ دی ہے۔ بھارتی دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگیں روایتی فوجی طاقت کے بجائے ٹیکنالوجی اور اطلاعاتی برتری کے ذریعے لڑی جائیں گی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ کشیدگی اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیموں پر عائد کیا، تاہم پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان میزائل حملوں، ڈرون کارروائیوں اور سرحدی گولہ باری کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس نے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا۔ بھارتی حکومت نے اس فوجی کارروائی کو “آپریشن سندور” کا نام دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں موجود شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب پاکستان کا مؤقف تھا کہ بھارتی حملوں میں شہری علاقوں اور مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا۔
بھارتی میڈیا میں آج ایک اور اہم موضوع چین کا کردار رہا۔ بعض بھارتی اخبارات نے چینی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ مئی 2025 کی کشیدگی کے دوران چین نے پاکستان کو تکنیکی اور دفاعی معاونت فراہم کی تھی۔ بھارتی تجزیہ نگار اس پیش رفت کو جنوبی ایشیا میں نئی جغرافیائی صف بندی قرار دے رہے ہیں، جہاں بھارت امریکہ اور مغربی اتحادیوں کے قریب جبکہ پاکستان چین کے مزید قریب دکھائی دے رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق “آپریشن سندور” نے جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی نئی دوڑ کو بھی تیز کردیا ہے۔ بھارت مسلسل اپنے دفاعی بجٹ اور فوجی ٹیکنالوجی میں اضافہ کر رہا ہے جبکہ پاکستان بھی اپنی دفاعی تیاریوں کو جدید بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
بھارتی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر آج بھی “آپریشن سندور” کو قوم پرستانہ جذبے اور عسکری طاقت کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم خطے کے مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلسل جنگی بیانیہ جنوبی ایشیا کے امن، معیشت اور سفارتی استحکام کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے کیلئے سنجیدہ سفارتی اقدامات نہ کئے تو مستقبل میں ایک معمولی واقعہ بھی بڑے فوجی تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔