متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے قرض کی فوری واپسی کا مطالبہ کیوں کیا؟

متحدہ عرب امارات نے اپریل 2026 میں پاکستان سے تقریبا 3.5 ارب ڈالر کی رقم واپس مانگ لی، جو ماضی میں پاکستان کے معاشی بحران کے دوران اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹ کے طور پر رکھی گئی تھی۔ یہ رقم 2018 اور 2019 میں پاکستان کے زرمبادلہ کے بحران کے وقت دی گئی تھی اور بعد ازاں اسے وقتا فوقتا رول اوور کیا جاتا رہا، یعنی مدت میں توسیع کی جاتی رہی۔

پاکستان نے یہ پوری رقم اپریل کے دوران مرحلہ وار واپس کر دی، جس میں پہلے تقریبا2 ارب ڈالر اور بعد میں بقیہ 1.5 ارب ڈالر شامل تھے۔ اس طرح مجموعی ادائیگی مکمل ہو گئی۔ یہ رقم پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ تھی، اور اس کی واپسی نے مالی دباؤ میں اضافہ کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام اور دیگر بیرونی مالی معاونت پر انحصار کر رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کے پیچھے صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اور علاقائی عوامل بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصا ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان تناؤ کے دوران پاکستان کی سفارتی پوزیشن بھی اس فیصلے میں ایک عنصر ہو سکتی ہے، جسے بعض حلقوں نے غیر واضح یا غیر متوازن قرار دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلیجی خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی صورتحال، یمن تنازع اور آبنائے ہرمز جیسے مسائل کے باعث متحدہ عرب امارات اپنے مالی وسائل کو زیادہ محفوظ انداز میں رکھنے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بعض معاشی اور سفارتی ترجیحات میں فرق کو بھی ایک پس منظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکام نے اس معاملے کو ایک معمول کی مالیاتی ادائیگی قرار دیا ہے، تاہم مالیاتی ماہرین کے مطابق اس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر وقتی دباؤ ضرور پڑا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے دیگر ذرائع جیسے سعودی عرب، چین اور عالمی مالیاتی ادارے کی معاونت سے اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کئی برسوں بعد متحدہ عرب امارات نے اس نوعیت کا ڈپازٹ رول اوور کرنے کے بجائے مکمل واپسی کا مطالبہ کیا، جسے بعض تجزیہ کار پاکستان اور امارات کے مالی تعلقات میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں