‘میرا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، مجھے 17 دن میں ذرا برابر بھی بھوک محسوس نہ ہوئی’، یہ الفاظ عبدالوہاب نامی اس لاپتہ مزدور کے ہیں جو 17 دن بعد معجزانہ طور پر ملبے تلے ایک سرنگ سے زندہ بر آمد ہوا۔
31 مارچ 2026 کو سہ پہر تقریبا 4 بجے خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان کی تحصیل رستم کے علاقے پلوڈھیری میں ننگ آباد ماربل کان میں مزدور حسب معمول مائننگ میں مصروف تھے۔ چند مزدور پہاڑی کے دامن میں کام کی جگہ اور مشینری کی صفائی کے بعد چائے پی رہے تھے کہ اچانک پہاڑی تودا آ گرا اور 12 مزدور ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تحصیل رستم اور ضلع مردان کی ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری کے ساتھ موقع پر پہنچیں اور فوری طور پر ملبے تلے دبے مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ یہ آپریشن انتہائی مشکل اور دشوار تھا کیونکہ پہاڑی سے گرے ایک ایک پتھر کا وزن کئی ٹن سے بھی زیادہ تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق، آپریشن کے آغاز کے کئی گھنٹوں بعد 8 مزدوروں کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 3 زخمی حالت میں بر آمد ہوئے۔ لاشوں اور زخمی افراد کو فورا تحصیل رستم کے ٹائپ ڈی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پہاڑی سے گرنے والے کئی ٹن وزنی پتھروں کے باعث جاں بحق افراد کے اجسام بالکل کچل گئے تھے اور ان کی فوری شناخت میں مشکلات پیش آ رہی تھیں لیکن لواحقین کی موجودگی میں طبی عملے کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد 7 لاشوں کو متعلقہ خاندانوں کے حوالے کیا گیا جبکہ ایک لاش ایسی تھی جسے شک کی بنیاد پر ڈین این اے (DNA) ٹیسٹ کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) منتقل کیا گیا۔ یہ لاش عبدالوہاب ولد مکمل نامی مزدور کی بتائی جا رہی تھی جن کا سر مکمل طور پر کچل گیا تھا۔ خاندان کے افراد نے شک کی بنیاد پر کہا کہ یہ عبدالوہاب ہو سکتے ہیں تاہم کوئی بھی مکمل تصدیق نہیں کر پا رہا تھا۔
ایک مقامی سینئر صحافی عزیر نعمانی نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ایم ایم سی منتقل کرنے کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لاش کے مختلف نمونے لیے گئے اور موقع پر موجود خاندان کے افراد سے ضروری دستاویزات دستخط کروانے کے بعد لاش ان کے حوالے کر دی گئی۔ عزیز نعمانی نے مزید بتایا کہ ویسے تو ڈی این اے ٹیسٹ میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں لیکن اس کیس میں شاید جلدی بازی سے کام لیا گیا اور مبینہ طور پر ٹیسٹ اور شناخت مکمل کیے بغیر لاش لواحقین کے حوالے کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نماز جنازہ پڑھایا گیا، لاش دفنائی گئی اور آبائی گاوں میں تین دن تعزیت بھی کی گئی لیکن اس بات کی کوئی تصدیق نہ ہو سکی کہ آیا دفنائے گئے شخص عبدالوہاب ولد مکمل تھے بھی یا نہیں۔

اس سے قبل عبدالوہاب کے ایک بھانجے نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ‘رستم ہسپتال میں کافی جانچ پڑتال کے بعد بھی ہم لاش کی شناخت نہ کر پائے۔ بعد ازاں ہم لاش کو ایم ایم سی لے گئے جہاں ڈاکٹرز نے نمونے لینے کے بعد بتایا کہ ڈی این اے رپورٹ پانچ دن بعد آئے گی۔ ہم مطمئن نہیں تھے لیکن پھر ہمارے ایک گاوں والے قریبی نے کہا کہ یہ عبدالوہاب ہی ہے جس کے بعد ہم اسے گاوں لے آئے اور ان کی تدفین کر دی’۔
تحصیل رستم کے ریسکیو حکام کے مطابق، 8 جاں بحق مزدوروں میں سے 3 کا تعلق ضلع مہمند، 3 کا تعلق ضلع صوابی، ایک کا تعلق ضلع بونیر جبکہ ایک کا تعلق پشاور سے تھا۔ رستم ریسکیو، پولیس اور ٹائپ ڈی ہسپتال کی جانب سے جاں بحق افراد کی جو فہرست جاری کی گئی اس میں ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے عبدالوہاب ولد مکمل کا نام بھی شامل تھا۔ مقامی فلاحی تنظیم ‘رستم ویلفیئر فاونڈیشن’ کے چیئرمین ظفر علی ثبت خیل نے تاشقند اردو کو بتایا کہ جاں بحق افراد کے لیے تابوت اور کفن تنظیم کی جانب فراہم کیے گئے جن میں سے ایک تابوت پر عبدالوہاب کا نام درج تھا۔
ان 12 مزدوروں میں سے ایک، جو تاحال بر آمد نہیں ہوئے تھے، کے خاندان نے دعوی کیا کہ ہمارا خیبر نامی لڑکا لاپتہ ہے۔ خیبر کا تعلق بھی ضلع مہمند سے تھا جو لینڈ سلائیڈنگ کے اس واقعے میں باقی 11 مزدوروں سمیت ملبے تلے دب گئے تھے۔ 31 مارچ سے لے کر 16 اپریل تک خیبر کی تلاش جاری رہی۔ ریسکیو ٹیمیں، مقامی فلاحی تنظیمیں، سماجی کارکنان اور علاقہ مکین 17 دن تک بغیر کسی وقفے خیبر کی تلاش میں مصروف تھے۔ ظفر علی ثبت خیل کے مطابق، خیبر کے خاندان کے افراد روزانہ اس امید کے ساتھ آتے کہ شاید آج خیبر کی ‘لاش’ مل جائے۔
16 اپریل یعنی بروز جمعرات ریسکیو آپریشن جاری تھا کہ عصر کے وقت کان کے سامنے بھاری پتھروں کے نیچے ایک سرنگ سے ریسکیو عملے کو یہ انجان آواز سنائی دی، ‘مجھے یہاں سے باہر نکالو، میں زندہ ہوں’۔ یہ وہ آواز تھی جس کی شاید کسی کو امید نہ تھی۔ یہ آواز سنتے ہی موقع پر موجود تمام افراد نے احتیاط کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے وزنی پتھر ہٹانا شروع کر دیے اور یوں 17 دن سے لاپتہ مزدور زندہ و سلامت نکل آئے۔

ہر طرف اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوئے اور پورے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب یہ معلوم ہوا کہ زندہ برآمد کیے گئے مزدور وہ لاپتہ شخص ہے ہی نہیں جن کی 17 دنوں سے دن رات تلاش جاری تھی۔ ابتداء میں شاید سب کو گمان ہوا کہ یہ ضلع مہمند کے خیبر نامی مزدور ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو عبدالوہاب ولد مکمل ہیں جو 16 دن قبل مبینہ طور پر ‘دفنائے گئے تھے’۔ اتفاق سے اس موقع پر عبدالوہاب کے بڑے بھائی بھی موجود تھے۔ صحافی عزیر نعمانی نے بتایا کہ عبدالوہاب کے خاندان کے افراد پچھلے تین دنوں سے آپریشن کی جگہ کا چکر لگا رہے تھے کیونکہ مبینہ طور پر دفنائی گئی لاش سے وہ مطمئن نہیں تھے اور ان کو یہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی عبدالوہاب تھے۔

عبدالوہاب کے بھائی نے اس موقع پر تصدیق کی کہ زندہ برآمد کیے گئے شخص خیبر نہیں بلکہ ان بھائی عبدالوہاب ہیں۔ عبدالوہاب کو ریسکیو ٹیم نے ایم ایم سی منتقل کیا جہاں فی الحال وہ زیر علاج ہیں۔
اس غیر معمولی واقعے نے کئی شکوک و شبہات اور سوالات کو جنم دیا ہے لیکن ساتھ ہی علاقہ مکین اسے رب کا ‘معجزہ’ قرار دے کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کان میں کام کرنے والے باقی مزدوروں کے مطابق، عبدالوہاب کان کے سامنے اس سرنگ سے برآمد ہوئے جو عموما مائننگ سائٹ پر دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کے لیے کھودی جاتی ہے۔
اس ساری صورتحال کے بیچ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر عبدالوہاب 17 دن تک بغیر کھائے پیے اس سرنگ میں زندہ کیسے رہے؟ 17 دنوں کے اس آپریشن کے دوران کئی مرتبہ تیز اور طویل بارشیں ہوئیں۔ سماجی کارکن ظفر علی ثبت خیل نے بتایا کہ ‘جب میں نے ہسپتال میں عبدالوہاب سے پوچھا کہ آپ 17 دن تک کیسے زندہ رہے؟ کیونکہ وہاں تو کھانے پینے کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ان 17 دنوں میں مجھے کبھی بھوک محسوس نہیں ہوئی۔ میں نے صرف پانی پیا اور وہ بھی تب جب بارش کے دوران سرنگ میں پانی جمع ہو جاتا تھا’۔

اس وقت سوشل میڈیا پر عبدالوہاب کی مردان میڈیکل کمپلیکس کے ایک بیڈ پر دوران علاج ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ‘میں ذرا برابر بھی پریشان نہیں ہوا کہ یہاں سرنگ میں مر جاوں گا۔ میں نے خود سے کہا کہ اللہ نے حضرت یونس علیہ السلام کو 40 دن تک مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھا تو تجھے بھی پال لے گا۔ مجھے اللہ پر اتنا یقین تھا کہ میں یہاں سے ہر حال میں زندہ نکلوں گا چاہے سال بعد ہی کیوں نہ ہو۔ میرا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، 17 دن میں مجھے ذرا برابر بھی بھوک محسوس نہیں ہوئی’۔
مردان ریسکیو 1122 کے میڈیا کوآرڈینیٹر سید عباس نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’17 دن تک مسلسل خیبر نامی لاپتہ مزدور کی تلاش جاری تھی لیکن معجزانہ طور پر جب 17 دن بعد ایک شخص زندہ برآمد ہوا تو اس کی شناخت عبدالوہاب کے نام سے ہوئی’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘قریبی رشتہ داروں کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے دفن کی گئی لاش ممکنہ طور پر خیبر نامی مزدور کی ہو سکتی ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر مردان اور ریسکیو 1122 مردان کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور متاثرہ افراد کی درست شناخت کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر اس وقت مقامی افراد اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنی سنگین غفلت کیوں برتی گئی؟ اس قدر حساس معاملے میں ڈاکٹرز اور طبی انتظامیہ کی جانب سے جلدی بازی کیوں کی گئی؟ ایک اور مقامی صحافی نے نام ظاہر نہ کرے کی شرط پر تاشقند اردو کو بتایا کہ یہ زمہ داری رستم ٹائپ ڈی ہسپتال اور ایم ایم سی کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے شکوک و شبہات کے باوجود اور ڈی این اے رپورٹ کے بغیر لاش لواحقین کے حوالے کر دی تھی۔
واضح رہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخواہ محمد سہیل آفریدی نے 31 مارچ کو اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ مائننگ سائٹس پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے جائے اور مستقل میں ان جیسے افسوسناک واقعات سے بچاو کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 25، 25 لاکھ معاوضے کا بھی اعلان کیا تھا۔