امریکی افواج ایران کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں، امریکی وزیر دفاع

امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جنگ بندی کے دوران ایک نرم قدم ہے، اور اگر حکم دیا گیا تو امریکی افواج ایران کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔

پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ مزید طاقت اور بہتر انٹیلیجنس کے ساتھ تیار ہے اور ایران کو آئندہ مذاکرات کے حوالے سے دانشمندانہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی افواج ایران کے بجلی گھروں، توانائی کے انفراسٹرکچر اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنا سکتی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی امید ظاہر کی ہے، لیکن ساتھ ہی ایران پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

امریکہ نے پیر کے روز ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کی تھی، جس کے تحت 13 جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد ایران کو امریکی شرائط ماننے پر آمادہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔

امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی افواج کسی بھی وقت بڑے فوجی آپریشن کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ کسی بھی ایرانی پرچم والے جہاز یا ایران کی مدد کرنے والے جہاز کا تعاقب کرے گی، اور ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو روکا جائے گا۔

امریکی بحریہ کے مطابق اس ناکہ بندی کو مزید وسیع کرتے ہوئے ایسے سامان پر بھی پابندی لگائی گئی ہے جسے ممنوعہ قرار دیا گیا ہے، جن میں اسلحہ، تیل، اور دیگر صنعتی مواد شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کی صورتحال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں