دنیا بھر میں پھیلنے والی خاموش مگر خطرناک بیماری چاگاس

دنیا بھر میں پھیلنے والی ایک خاموش مگر خطرناک بیماری چاگاس ماہرین کے مطابق عالمی صحت کے لیے ایک بڑھتا ہوا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری طویل عرصے تک بغیر واضح علامات کے انسانی جسم میں موجود رہ سکتی ہے، لیکن بعد میں سنگین اور جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ مرض ایک خردبینی پیراسائٹ ٹرائپانوسوما کروزی کے باعث ہوتا ہے، جو عموماً “کِسنگ بگ” نامی کیڑے کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔

یہ کیڑا رات کے وقت کاٹتا ہے اور اس کے ذریعے پیراسائٹ جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ بیماری خون کی منتقلی، اعضا کی پیوندکاری یا ماں سے بچے میں بھی منتقل ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 60 سے 70 لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی کیسز کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔

ابتدائی مرحلے میں اس بیماری کی علامات ہلکی ہوتی ہیں، جیسے بخار، تھکن اور جسمانی درد، جبکہ بعض مریضوں میں آنکھ یا چہرے پر سوجن بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری بعد میں دل، اعصاب اور نظامِ ہاضمہ کو متاثر کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق تقریباً 20 سے 30 فیصد مریضوں میں بیماری کا دائمی مرحلہ سامنے آتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، دل کے سائز میں اضافہ اور دل کی ناکامی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں عالمی سفر اور ہجرت کے باعث یہ بیماری لاطینی امریکہ سے نکل کر دیگر خطوں تک بھی پھیل رہی ہے، جس کے بعد اسے ایک ابھرتا ہوا عالمی مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے بچاؤ کے لیے بروقت تشخیص، محفوظ خون کی منتقلی، بہتر رہائشی حالات اور کیڑوں سے تحفظ کے اقدامات نہایت ضروری ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں