سعودی عرب نے پاکستان کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ اسلام آباد اپنے قریبی مالی واجبات پورے کر سکے۔
پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اضافی رقم اس کے علاوہ ہے جو پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کے رول اوور معاہدے کے تحت دی گئی ہے۔
سعودی وزارتِ خزانہ کے ایک ترجمان کے مطابق یہ 3 ارب ڈالر کا ڈپازٹ پاکستان کے مالی توازن کو سہارا دینے کے لیے فراہم کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان کے ذخائر اس وقت تقریباً 16.4 ارب ڈالر بتائے جاتے ہیں۔
حکام کے مطابق اس ادائیگی کا حجم ملک کے مجموعی ذخائر کا بڑا حصہ ہے، جس کی وجہ سے مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت اصلاحاتی عمل سے بھی گزر رہا ہے، جس کے مطابق ملک کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ کرنا ہے۔
پاکستانی وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ یہ مالی معاونت ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے اضافی وسائل کی ضرورت ہے، اور اس سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
ادھر مالی امداد کی خبر کے بعد پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جسے مالیاتی منڈیوں نے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے متعدد بار پاکستان کو مالی بحران کے دوران مدد فراہم کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال دفاعی تعاون کا ایک معاہدہ بھی ہوا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔