واشنگٹن میں امریکہ کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا ہے، جسے خطے میں ممکنہ امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس موقع پر کہا کہ یہ ایک طویل عمل کا آغاز ہے، جس کا مقصد لبنان میں جاری تنازع کا مستقل حل نکالنا اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک مسلسل سفارتی کوشش کی شروعات ہے۔
یہ مذاکرات اسرائیل کے سفیر یخیئیل لائٹر اور لبنان کی سفیر ندا حمادہ مواود کے درمیان ہوئے، جو 1983 کے بعد دونوں ممالک کے نمائندوں کی پہلی براہِ راست بات چیت ہے۔ دونوں ممالک 1948 سے تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔
اس موقع پر برطانیہ سمیت 17 ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ براہِ راست مذاکرات سے لبنان اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تاہم مذاکرات میں دونوں فریقین کے مؤقف میں واضح اختلاف موجود ہے۔ لبنان کی جانب سے جنگ بندی پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ اس مرحلے پر جنگ بندی پر بات نہیں کرے گا اور اس کی اولین ترجیح حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات لبنانی عوام، خاص طور پر جنوبی علاقوں میں رہنے والوں کی مشکلات کے خاتمے کا آغاز ثابت ہوں گے۔
دوسری جانب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں شدت آئی ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق حالیہ لڑائی میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک اور بارہ لاکھ کے قریب بے گھر ہو چکے ہیں۔
یہ مذاکرات ایک نہایت نازک وقت میں ہو رہے ہیں، جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تناؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اگرچہ فوری پیش رفت کا امکان کم ہے، تاہم اس نوعیت کی بات چیت مستقبل میں کسی بڑے سفارتی حل کی بنیاد بن سکتی ہے۔