آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے باوجود جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے، جس کے بعد اس کی نوعیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق یہ ناکہ بندی پیر سے نافذ کی گئی تھی اور اس کا اطلاق ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام بحری جہازوں پر ہوتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کی تیل کی آمدنی کو محدود کرنا ہے۔
تاہم جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق ناکہ بندی کے اعلان کے بعد بھی متعدد جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہے، جن میں کچھ ایسے بھی تھے جو ایران سے روانہ ہوئے تھے یا ایرانی مصنوعات لے جا رہے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق بعض جہاز ناکہ بندی کے آغاز سے پہلے اور بعد میں اس گزرگاہ سے گزرے، جس سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا انہیں کسی رعایت کے تحت اجازت دی گئی تھی یا انہوں نے کسی طرح اس پابندی کو نظر انداز کیا۔
دوسری جانب کچھ جہازوں نے ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اپنا راستہ تبدیل بھی کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اقدام نے کم از کم جزوی طور پر بحری نقل و حرکت کو متاثر ضرور کیا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکہ اس ناکہ بندی پر کس حد تک مؤثر عمل درآمد کر سکے گا، تاہم اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔