استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے پنجاب کے شہر تونسہ کے سینکڑوں بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص، بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف

بی بی سی اردو کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، پنجاب کے شہر تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے متعلق ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں خفیہ طور پر کی گئی فلم بندی میں سرکاری تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجیں بار بار استعمال کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 331 بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے، جن میں 8 سالہ محمد امین بھی شامل تھے جو تشخیص کے کچھ عرصے بعد انتقال کر گئے، جبکہ ان کی 10 سالہ بہن عاصمہ بھی ایچ آئی وی پازیٹو پائی گئیں، حالانکہ ان کی والدہ صغریٰ اس مرض سے محفوظ ہیں۔

بی بی سی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہسپتال میں عام طبی معائنے کے دوران بچوں کو ایسے انجیکشن لگائے گئے جن میں استعمال شدہ سرنجیں دوبارہ استعمال ہو رہی تھیں۔ خفیہ فلم بندی کے دوران 32 گھنٹوں میں کم از کم 10 مواقع پر یہی عمل دیکھا گیا، جبکہ بعض صورتوں میں ایک ہی دوا کی بوتل سے مختلف بچوں کو انجیکشن لگایا گیا، جس سے وائرس منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا۔ ماہرین کے مطابق، اگر سوئی تبدیل بھی کر دی جائے تو سرنج کے باقی حصے میں وائرس موجود رہ سکتا ہے جو اگلے مریض کو منتقل ہو سکتا ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہسپتال کے عملے نے کئی بار بغیر دستانے پہنے مریضوں کو انجیکشن لگائے اور صفائی کے اصولوں کو نظر انداز کیا۔ ایک نرس کو طبی فضلے کے ڈبے میں بغیر حفاظتی اقدامات کے ہاتھ ڈالتے بھی دیکھا گیا۔
دوسری جانب ہسپتال کے موجودہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوٹیج یا تو پرانی ہے یا اسے جان بوجھ کر تیار کیا گیا ہے، اور ان کے مطابق، ہسپتال میں مریضوں کے لیے مکمل حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔ تاہم بی بی سی کے شواہد کے مطابق، ان کی تعیناتی کے کئی ماہ بعد بھی غیر محفوظ طریقے جاری رہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک مقامی ڈاکٹر گل قیصرانی نے سب سے پہلے اس مسئلے کی نشاندہی کی تھی، جب انہوں نے دیکھا کہ بڑی تعداد میں ایسے بچے ان کے کلینک آ رہے ہیں جو ایچ آئی وی سے متاثر ہیں اور ان میں سے اکثر کا علاج اسی سرکاری ہسپتال میں ہوا تھا۔ کئی والدین نے بھی شکایت کی کہ ایک ہی سرنج متعدد بچوں پر استعمال کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق، متاثرہ بچوں میں سے بہت کم کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹو تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری زیادہ تر طبی عمل کے دوران پھیلی۔ صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے مطابق، تقریبا نصف بچوں کو یہ وائرس استعمال شدہ سوئیوں کے ذریعے منتقل ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ طبی سہولیات کی کمی، ادویات کا محدود کوٹہ اور انجیکشن کے زیادہ استعمال کا رجحان بھی اس مسئلے کی بڑی وجوہات ہیں۔ کئی مریضوں کو ہسپتال سے باہر سے دوائیں خریدنے کا کہا جاتا تھا جبکہ عملہ وسائل کی کمی کا شکار تھا۔

یہ مسئلہ صرف تونسہ تک محدود نہیں بلکہ اس سے قبل سندھ کے علاقے رتوڈیرو میں بھی اسی نوعیت کی وبا سامنے آ چکی ہے، جہاں سینکڑوں بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے تھے۔ حالیہ کیسز میں کراچی کے ایک سرکاری ہسپتال میں بھی بچوں میں وائرس کی منتقلی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور انفیکشن کنٹرول کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو نہ صرف صحت کے مسائل بلکہ معاشرتی تنہائی کا بھی سامنا ہے۔ عاصمہ جیسی بچیاں اب زندگی بھر اس بیماری کے ساتھ جینے پر مجبور ہیں، حالانکہ ان کے خاندان کے مطابق، یہ مرض انہیں طبی غفلت کے باعث لاحق ہوا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں