بھارتی فلمی دنیا کی معروف گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق، وہ ممبئی میں انتقال کر گئیں، جہاں وہ شدید کمزوری اور سینے کے انفیکشن کے باعث زیرِ علاج تھیں۔
ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے بتایا کہ ان کی والدہ کا انتقال اتوار کے روز ہوا اور ان کی آخری رسومات ممبئی کے شیواجی پارک میں ادا کی جائیں گی۔
آشا بھوسلے نے اپنے سات دہائیوں پر محیط کیریئر کے دوران مختلف بھارتی زبانوں میں بارہ ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کیے اور 1970 اور 1980 کی دہائی میں ان کی آواز بالی وڈ موسیقی کی پہچان بن گئی۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، جبکہ بھارتی صدر دروپدی مرمو نے کہا کہ ان کی وفات موسیقی سے محبت کرنے والوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
8 ستمبر 1933 کو ایک موسیقی گھرانے میں پیدا ہونے والی آشا بھوسلے نے اپنے والد کے انتقال کے بعد بچپن ہی میں گانا شروع کیا۔ وہ اپنی بڑی بہن لتامنگیشکر کے ساتھ موسیقی کے میدان میں آئیں، تاہم انہوں نے اپنی منفرد پہچان قائم کی اور پاپ، لوک اور فلمی موسیقی سمیت مختلف انداز اپنائے۔
ان کی زندگی کے ابتدائی سال مشکلات سے بھرپور رہے، جن میں کم عمری کی شادی بھی شامل تھی، لیکن بعد میں وہ بھارتی فلمی صنعت کی سب سے ہمہ جہت اور مقبول آوازوں میں شمار ہونے لگیں۔ انہیں سن 2001 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا اور انہیں دو مرتبہ گریمی ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔
انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برسوں تک بین الاقوامی فنکاروں کے ساتھ بھی کام جاری رکھا اور برطانوی بینڈ کے ایک البم میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔
ان کے انتقال پر موسیقی کی دنیا کی بڑی شخصیات اور فلمی اداکاروں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ معروف موسیقار اے آر رحمان نے کہا کہ ان کی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی، جبکہ گلوکار شنکر مہادیون نے اسے بھارتی موسیقی کے لیے ایک انتہائی افسوسناک دن قرار دیا۔
اداکارہ اور رکنِ پارلیمنٹ ہیما مالنی نے بھی کہا کہ آشا بھوسلے کی آواز نے ان کی فلموں کے گانوں کو ہمیشہ کے لیے مقبول بنا دیا۔
بالی ووڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان نے ان کےانتقال پر افسوس کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ ان کی موسیقی ہندی سینما کے ستونوں میں سے ایک تھی۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے پیار دیا ، وہ مجھے یاد آئیں گی۔
سابق آسٹریلوی کرکٹر بریٹ لی نے شوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ بہت مہربان تھیں۔ میں خوش نصیب ہوں کہ ان کے ساتھ مختصر سا وقت گزارا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آشا جی کی روایت کئی نسلوں تک زندہ رہے گی۔