پاکستان کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک نئی تجارتی راہداری کو فعال کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پہلی برآمدی کھیپ ازبکستان روانہ کر دی گئی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق یہ کھیپ گوشت پر مشتمل ہے جو کراچی سے ٹرکوں کے ذریعے روانہ کی گئی اور گبد-ریمدان سرحدی گزرگاہ کے راستے ایران میں داخل ہوئی۔ وہاں سے یہ سامان تاشقند پہنچے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا راستہ پاکستان کو ایران اور وسطی ایشیائی ممالک تک براہِ راست رسائی دے گا، جبکہ گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوگا۔
پاکستان روایتی طور پر افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک تجارت کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں سرحدی کشیدگی اور گزرگاہوں کی بندش کے باعث اس راستے میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس کے بعد ایران کو متبادل تجارتی راہداری کے طور پر اہمیت دی جا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کسٹمز اور وزارتِ تجارت بین الاقوامی ٹرانزٹ تجارت کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جن میں بندرگاہوں پر سامان ذخیرہ کرنے کی سہولیات میں اضافہ بھی شامل ہے۔
مزید بتایا گیا کہ انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ یونین نے تفتان، ریمدان، سوست اور گوادر سمیت مختلف سرحدی مقامات کو بین الاقوامی روڈ ٹرانزٹ کے لیے فعال بنایا ہے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف بندرگاہی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقائی تجارت اور رابطوں کو بھی فروغ ملے گا، جس سے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور برآمدات بڑھانے کے لیے نئے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں۔