ازبکستان میں سعودی سرمایہ کاری 400 فیصد اضافے کے بعد 26 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

سعودی عرب اور ازبکستان کے درمیان سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سعودی سرمایہ کاری میں 400 فیصد اضافہ ہو کر 26 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

سعودی-ازبک بزنس کونسل کے سی ای او فیصل باعبداللہ نے عرب نیوز کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں، اور رواں سال کے اختتام تک اس حجم کو 30 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2020 میں دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری صرف دو لاکھ ڈالر تھی، جو 2021 میں 5 ارب ڈالر کے معاہدوں کے بعد تیزی سے بڑھ کر موجودہ سطح تک پہنچ گئی۔ گزشتہ سال دو طرفہ تجارتی حجم 594 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

فیصل باعبداللہ کے مطابق، بزنس کونسل کی جانب سے مکہ، جدہ اور طائف سمیت مختلف شہروں کے دورے کیے گئے، جہاں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے گئے اور مقامی چیمبرز آف کامرس کے ساتھ روابط بڑھائے گئے تاکہ باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دوروں میں سیاحت، زراعت، خوراک، تعمیرات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبوں سمیت مختلف اہم شعبوں پر توجہ دی گئی۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کے لیے ورکشاپس بھی منعقد کی گئیں تاکہ دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کونسل اس وقت توانائی، زراعت، خوراک، ٹیکسٹائل اور سیاحت جیسے شعبوں کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

سی ای او کے مطابق، سعودی-ازبک بزنس کونسل 2021 میں قائم ہوئی تھی اور اسی سال اس کا پہلا مشترکہ اجلاس ہوا، جبکہ آئندہ اجلاس رواں سال ازبک دارالحکومت تاشقند میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ازبکستان نے 2026 کے آغاز سے بیرون ملک سرمایہ کاری کے خواہشمند اداروں کی حوصلہ افزائی شروع کر دی ہے اور سعودی عرب کو ایک اہم سپاٹ قرار دیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں