امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس میں اسرائیل نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آئی ہے، جہاں جلد ہی مذاکرات کا اگلا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ وہ ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر سے ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ یہ جنگ بندی دو طرفہ ہوگی اور اس دوران مذاکرات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کئی اہم معاملات پر پہلے ہی پیش رفت ہو چکی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبہ مذاکرات کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اسرائیل کی حمایت، مگر لبنان شامل نہیں
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس جنگ بندی کی حمایت کی ہے، تاہم واضح کیا ہے کہ یہ لبنان میں جاری کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ممکنہ جوہری اور میزائل خطرات کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
پاکستان کا کردار اور اسلام آباد مذاکرات
پاکستان نے اس پیش رفت میں اہم ثالثی کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام فریقوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جنگ بندی کے ذریعے سفارت کاری کو موقع دیں۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کو 10 اپریل سے اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔ یہ مذاکرات ابتدائی طور پر 15 دن جاری رہیں گے، جن میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ امن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے خلاف حملے بند رہتے ہیں تو ایران بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دے گا۔
آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اہم سمندری راستہ of آبنائے ہرمز دو ہفتوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تاہم اس کے لیے جہازوں کو ایرانی حکام سے رابطہ رکھنا ہوگا۔
یہ راستہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی کے ذریعے ہوتی ہے۔
ایران کا 10 نکاتی منصوبہ
ایران نے مذاکرات کے لیے 10 نکات پیش کیے ہیں، جن میں اہم مطالبات شامل ہیں:
خطے میں جاری تمام جنگوں کا خاتمہ
ایران کے خلاف مستقل جنگ بندی
ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ
منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی
آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت
ایران کی تعمیر نو کے لیے مالی معاوضہ
جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی یقین دہانی
امریکہ نے اس منصوبے کو مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد قرار دیا ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ملک نے جنگ میں اپنے اہم مقاصد حاصل کر لیے ہیں، جبکہ امریکہ بھی ایران کے کچھ مطالبات ماننے پر آمادہ ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ 15 دن نہایت اہم ہوں گے، جن میں یہ طے ہوگا کہ آیا یہ عارضی جنگ بندی مستقل امن معاہدے کی شکل اختیار کر سکتی ہے یا نہیں۔