ازبکستان نے اپنی نئی قومی ترقیاتی حکمتِ عملی ’ازبکستان 2030‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد معیشت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں وسیع اصلاحات لانا ہے۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ عوامی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔ اس حکمتِ عملی میں پہلی بار نتائج پر مبنی نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت 2030 تک 100 واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں اور ان کی سالانہ بنیاد پر نگرانی کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہر ہدف کے لیے ذمہ دار ادارے، فنڈنگ اور عمل درآمد کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے، جبکہ پیش رفت کو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے عوام کے سامنے بھی رکھا جائے گا۔
اس منصوبے کی دو بڑی ترجیحات انسانی ترقی اور پائیدار معاشی نمو ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں پری اسکول تک رسائی کو 80 فیصد تک بڑھانے، اساتذہ کی تنخواہیں دوگنی کرنے اور 5 لاکھ تعلیمی عملے کی تربیت کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ 200 بین الاقوامی معیار کے تعلیمی پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
صحت کے شعبے میں اوسط عمر 78 سال تک بڑھانے اور صحت پر اخراجات کو قومی معیشت کے 5 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نوجوانوں کے لیے جدید مہارتوں پر زور دیتے ہوئے 30 لاکھ افراد کو تربیت دینے اور آئی ٹی کے شعبے میں 3 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔
معاشی اہداف کے تحت ملک کی مجموعی قومی پیداوار کو 145 ارب ڈالر سے بڑھا کر 240 ارب ڈالر سے زیادہ کرنے کا ہدف ہے، جبکہ فی کس آمدنی 5800 ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت مہنگائی کو 5 فیصد تک محدود رکھنے، صنعتی پیداوار بڑھانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ 54 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
حکام کے مطابق یہ حکمتِ عملی ازبکستان کو آئندہ برسوں میں عالمی معیشت میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گی۔