امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی اے جارج کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں۔
پینٹاگون کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جنرل جارج اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں، تاہم اس اچانک فیصلے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام وزیرِ دفاع کی جانب سے فوجی قیادت میں اپنی پالیسیوں کے مطابق تبدیلی لانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ جنرل جارج کو 2023 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا اور وہ عراق اور افغانستان سمیت مختلف محاذوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ جنرل جارج اور وزیرِ دفاع کے درمیان فوجی افسران کی ترقیوں کے معاملے پر اختلافات بھی سامنے آئے تھے، جس کے بعد ان کی برطرفی کی قیاس آرائیاں کئی ہفتوں سے جاری تھیں۔
ادھر امریکی فوج کے اعلیٰ ترین ادارے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اپنے بیان میں جنرل جارج کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسی روز دو دیگر اعلیٰ فوجی افسران کو بھی عہدوں سے ہٹایا گیا ہے، تاہم پینٹاگون نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
یہ اقدام امریکی فوج میں حالیہ مہینوں کے دوران ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔