مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران پاکستان ایک غیر متوقع مگر اہم کردار کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں وہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ممکنہ ثالث کی حیثیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت میں اسلام آباد کو دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے لیے ایک غیر جانبدار مقام کے طور پر پیش کرنے کی تجویز نے خطے کے مبصرین کو حیرت میں مبتلا کر دیا تھا
ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات حقیقت کا روپ دھارتے ہیں تو یہ نہ صرف جاری تنازع میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ پاکستان کے عالمی امیج بلڈنگ میں بھی ایک بڑی تبدیلی کا سبب بنیں گے، جہاں اسے ایک کمزور یا غیر مستحکم ریاست کے بجائے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جائے گا
پاکستان کے ایک سکیورٹی عہدیدار کے مطابق یہ اقدام کسی بڑے جغرافیائی سیاسی مقصد کے تحت نہیں بلکہ اپنی بقا کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، کیونکہ طویل جنگ کے معاشی اور سکیورٹی اثرات پاکستان برداشت نہیں کر سکتا۔ ملک اس وقت عالمی مالیاتی ادارے کی سخت شرائط کے تحت معاشی بحالی کے عمل سے گزر رہا ہے، جبکہ ایران سے متعلق کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کے بحران نے صورتحال کو پیچیدہ تر بنا دیا ہے
حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے توانائی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو مائع قدرتی گیس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً نو سو کلومیٹر طویل سرحد بھی صورتحال کو مزید حساس بناتی ہے، جہاں پہلے ہی شدت پسند علیحد گی کی تنظمیں اور اسمگلنگ کے مسائل موجود ہیں
پاکستان کے اندرونی حالات بھی اس معاملے میں اہم ہیں۔ ملک میں شیعہ آبادی کی نمایاں تعداد کے باعث ایران سے جڑی پیش رفت فوری طور پر داخلی ماحول پراثرات مرتب کرتی ہے۔ حالیہ واقعات میں ایرانی قیادت سے متعلق خبر کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا، جس نے ظاہر کیا کہ خطے کی کشیدگی کس طرح پاکستان کے اندر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے
دوسری جانب پاکستان کے خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات بھی اس صورتحال کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ دفاعی تعاون کے معاہدوں کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر تنازع بڑھتا ہے تو پاکستان پر فوجی تعاون کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے اس کی سفارتی ثالث کے کردارکی گنجائش محدود ہو سکتی ہے
ان تمام عوامل کے باوجود پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس معاملے پر غیر معمولی ہم آہنگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ ملک کو ایک ایسے غیر جانبدار فریق کے طور پر پیش کیا جائے جہاں کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا سکیں
اس سلسلے میں فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک اہم شخصیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جنہوں نے حالیہ عرصے میں بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت کو مضبوط کیا ہے۔ ان کے امریکا کے ساتھ روابط اور ایران کے عسکری اداروں کے ساتھ محدود مگر اہم رابطے پاکستان کو ایک ممکنہ رابطہ کار کے طور پر پیش کرتے ہیں
اگرچہ ابھی تک امریکا، ایران یا پاکستان کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم مختلف ذرائع سے اس کی تصدیق ضرور ہو چکی ہے کہ پسِ پردہ رابطے جاری ہیں اور پاکستان ان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا ہے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، مذہبی تنوع اور عسکری اہمیت اسے اس تنازع میں ایک منفرد مقام فراہم کرتی ہے، جو خلیجی ممالک سے مختلف ہے۔ یہی عوامل اسے ایک ایسا ملک بناتے ہیں جو دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول ثالث بن سکتا ہے۔
تاہم اس کردار کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان ایک ایسے تنازع میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے جس میں بڑی عالمی طاقتیں شامل ہیں، جبکہ وہ خود اندرونی سکیورٹی چیلنجز اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے
اس کے باوجود اگر پاکستان اس کوشش میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے نہ صرف عالمی سطح پر سفارتی اہمیت حاصل ہو سکتی ہے بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ حتیٰ کہ اگر یہ کوشش مکمل کامیابی حاصل نہ بھی کرے، تب بھی پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی سطح کے اہم معاملات میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے