ترکی کے شہر قیصری میں واقع آٹھ سو سال سے زائد قدیم گیوہر نصیبہ میڈیکل کمپلیکس کو طب اور تعلیم کے شعبے میں ایک اہم تاریخی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ کمپلیکس 1206 میں سلجوق سلطان غیاث الدین کیخسرو اول نے اپنی بہن گیوہر نصیبہ سلطان کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ ادارہ اس دور میں ایک منفرد مرکز تھا جہاں طبی تعلیم اور مریضوں کے علاج کو ایک ہی جگہ یکجا کیا گیا تھا، جو آج کے جدید طبی نظام سے ملتا جلتا تصور سمجھا جاتا ہے۔
اس کمپلیکس میں طلبہ کو مدرسے میں تعلیم دی جاتی تھی جبکہ ساتھ موجود شفاخانے میں وہ عملی تربیت بھی حاصل کرتے تھے۔ اس طرح تعلیم اور علاج کا یہ امتزاج اپنے وقت سے کہیں آگے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
اس مرکز میں عام علاج کے علاوہ ذہنی امراض کے مریضوں کے لیے بھی خصوصی شعبہ قائم تھا، جہاں موسیقی اور پانی جیسے طریقوں سے علاج کیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ایک دواخانہ اور حمام بھی موجود تھا تاکہ مریضوں کی مکمل دیکھ بھال ممکن بنائی جا سکے۔
یہ تاریخی عمارت اب سلجوق تہذیب میوزیم کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، جہاں آنے والے افراد کو اس دور کی طبی اور تعلیمی ترقی کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے۔