افغان عبوری حکومت نے ایک امریکی شہری کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کردیا

افغانستان کی حکومت نے ایک امریکی شہری کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا۔

افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی شہری ڈینس کوئل کو عیدالفطر کے موقع پر ان کے اہلِ خانہ کی اپیل پر رہا کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ خاندان نے رحم اور نرمی کی بنیاد پر رہائی کی درخواست کی تھی، جسے قبول کر لیا گیا۔

وزارت کے مطابق افغان سپریم کورٹ نے کیس کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ملزم اپنی سزا کا مناسب حصہ کاٹ چکا ہے، جس کے بعد اسے کابل میں اس کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انسانی اصولوں اور خیرسگالی کی عکاسی کرتا ہے اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس سے ممالک کے درمیان اعتماد کو فروغ ملے گا۔ اس عمل میں تعاون پر متحدہ عرب امارات کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔

دوسری جانب کابل میں اس حوالے سے ایک اہم ملاقات بھی ہوئی، جس میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے امریکہ کے سابق نمائندہ زلمے خلیل زاد، افغانستان میں اماراتی سفیر سیف الکتبی اور امریکی شہری کے اہلِ خانہ کے نمائندے سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ زیرِ حراست افراد کو سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا جاتا ہے اور قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں رہا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے قونصلر سہولیات کی فراہمی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ افغان حکومت اس حوالے سے تعاون کے لیے تیار ہے۔

اس موقع پر زلمے خلیل زاد نے اس فیصلے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اماراتی سفیر نے بھی انسانی بنیادوں پر ایسے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ افغان حکام نے محمد بن زاید النہیان اور قطر کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے رابطوں کو آسان بنانے میں کردار ادا کیا۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت افغانستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری کی ایک کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں