پاکستان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران چاہیں تو اسلام آباد ان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے تاکہ جاری کشیدگی کا پرامن حل نکالا جا سکے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو بتایا کہ ‘اگر فریقین چاہیں تو اسلام آباد ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ ‘پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت کرتا رہا ہے۔’
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں اور نیوکلیئر پلانٹس پر حملوں کی دھمکی کو پانچ دن کے لیے مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ‘بہت اچھی’ بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکی حالیہ دنوں میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور تہران و واشنگٹن کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں بھی مدد دے رہے ہیں تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔
بعض اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے نمائندے آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں ملاقات کر سکتے ہیں، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی۔
الجزیرہ کے مطابق، اس دوران پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اتوار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایرانی اور ترک ہم منصبوں سے الگ الگ بات چیت کی۔
حکام کے مطابق پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور تمام فریقین پر زور دے رہا ہے کہ تنازع کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔