اینٹی بایوٹک مزاحمت کیوں خطرناک ہوتی جا رہی ہے؟

اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت اب دنیا بھر میں ایک سنگین اور تیزی سے بڑھتا ہوا چیلنج بن چکی ہے، جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرہ پیدا کر رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے ۲۰۲۵ میں اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ۲۰۲۳ میں دنیا بھر میں ہونے والے عام بیکٹیریل انفیکشنز میں سے تقریباً ایک میں سے چھ انفیکشن ایسے تھے جن پر عام اینٹی بائیوٹک ادویات اثر نہیں کر رہی تھیں۔ یہ اعدادوشمار ۱۰۴ ممالک سے جمع کیے گئے ۲ کروڑ ۳۰ لاکھ سے زیادہ تصدیق شدہ انفیکشنز پر مبنی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۸ سے ۲۰۲۳ تک نگرانی کیے جانے والے ادویات اور جراثیم کے تجربات میں سے ۴۰ فیصد سے زیادہ میں مزاحمت میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ اضافہ ہر سال اوسطاً ۵ سے ۱۵ فیصد تک رہا ہے۔ خاص طور پر پیشاب کی نالی، خون، آنتوں اور جنسی انفیکشنز میں یہ مسئلہ بہت سنگین نو عیت کا ہے۔

اگر یہی رجحان جاری رہا تو ۲۰۵۰ تک اس مزاحمت کی وجہ سے اموات میں ۷۰ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، اور یہ جدید علاج جیسے سرجری، زچگی، کینسر کا علاج اور اعضاء کی پیوند کاری کو بھی انتہائی خطرناک بنا دے گا کیونکہ اس بڑ ھتی ہو ئی مزا حمت سے انفیکشن کا کنٹرول مشکل ہو جائے گا۔پاکستان میں یہ بحران عالمی سطح سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ وفاقی محکمہ صحت اور قومی ادارہ صحت کی تازہ ترین معلومات کے مطابق ملک میں ہر سال دو سے تین لاکھ افراد اس مزاحمت کی وجہ سے جان گنوا بیٹھتے ہیں۔

اگلے پچیس سالوں میں اگر قابو نہ پایا گیا تو دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ اموات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ پاکستان دنیا کے ۲۰۴ ممالک میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے لحاظ سے انتیسویں نمبر پر ہے، اور یہاں اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ اینٹی بائیوٹک ادویات کا بے جا اور غیر ضروری استعمال ہے۔ لوگ اکثر نزلہ، زکام، وائرل بخار یا گلے کی سوزش جیسی بیماریوں میں خود سے یہ ادویات لے لیتے ہیں، حالانکہ یہ بیماریاں وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ان پر اینٹی بائیوٹک اثر نہیں کرتیں۔

میڈیکل سٹورز سے بغیر نسخہ یہ ادویات آسانی سے مل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ لائیو سٹاک فارمز اور پولٹری میں جانوروں کو بیماری سے بچانے کے لیے بے تحاشہ اینٹی بائیوٹک دی جاتی ہے، جو خوراک کے ذریعے انسانوں تک پہنچ کر مزاحمت کو مزید بڑھاتی ہے۔عام جراثیم جیسے ای کولی اور کلیبسیلا میں مزاحمت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ مثال کے طور پر پیشاب کی نالی کے انفیکشن میں سیفٹریاکسون جیسی اہم دوا ۷۷ فیصد مریضوں پر اب اثر نہیں کر رہی۔

ہسپتالوں میں ایسے مریض بڑھ رہے ہیں جن کے انفیکشن آخری درجے کی ادویات پر بھی قابو نہیں پاتے، جس سے علاج مہنگا اور طویل ہو جاتا ہے اور اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے ۲۰۲۶ میں گلوبل ایکشن پلان کی تازہ شکل پر بات چیت کی ہے، جس میں مساوات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے مسائل پر توجہ ہے، مگر پاکستان نے بھی اپنا نیشنل ایکشن پلان ۲۰۲۴ سے ۲۰۲۸ تک جاری کیا ہے۔ اس میں قومی ترجیحی جراثیم کی فہرست بنائی گئی ہے تاکہ لیبارٹریوں اور ہسپتالوں کو رہنمائی ملے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عملدرآمد، دواؤں کی فروخت پر سخت نگرانی اور عوام میں آگاہی کی کمی اب بھی بڑا چیلنج ہے۔یہ بحران اب کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ اگر لوگ اینٹی بائیوٹک صرف ڈاکٹر کے مشورے سے، مکمل کورس کے ساتھ اور صرف بیکٹیریل انفیکشن میں استعمال کریں، ہاتھ دھونے اور حفظان صحت پر توجہ دیں، اور حکومت دواؤں کی غیر قانونی فروخت روکے تو اسے قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ورنہ معمولی انفیکشن بھی جان لیوا بننے لگیں گے، اور جدید طب کی بہت سی سہولیات خطرے میں پڑ جائیں گی

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں