ٍجس طرح عزت دار وہ ہے جو دوسروں کوعزت د ے، اِس طرح ”بادشاہ گر“ حقیقت میں خود بھی اندر سے ”بادشاہ“ ہوتا ہے، اپنی سیاسی سوجھ بوجھ استعمال کرتے ہوئے دوسروں کوبادشاہ بنانیوالے بادشاہ سے زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔ دوسروں کا خالی برتن وہی بھرتا ہے جوخودبھراہوا ہو۔ سخاوت کیلئے امارت ہونا ضروری نہیں، ”مفلس“ انسانیت کے ساتھ زیادہ ”مخلص“ ہوتے ہیں۔ جوزندہ ضمیر ہوں اُن کا خمیر اچھا اور ظرف بہت بڑاہوتا ہے۔ہرعہد میں ”بڑا“ انسان وہ ہے جس کی مجلس میں بیٹھا کوئی بھی شخص خود کو ”چھوٹا“ محسوس نہ کرے۔ سفید پوش اور پوش طبقہ کے درمیان خلیج کبھی ختم نہیں ہوسکتی، عام لوگ امیروں اوروزیروں سے شدید نفرت کرتے ہیں لیکن ان میں سے ہرکوئی خودزندگی بھر”امارت“ اورشاندار ”عمارت“ کیلئے ایڑیاں رگڑتا رہتا ہے۔کسی بھی انسان کواس کا بیش قیمت ”لباس“ نہیں بلکہ کردار ”عباس“ بناتا ہے۔ راقم نے اپنے”بچپن“ سے ”پچپن“ تک ایک اہم بات سیکھی ہے،میں پست ہمت کے ساتھ بہت دورتک جاسکتا ہوں لیکن کسی کم ظرف کے ساتھ دوقدم نہیں چل سکتا کیونکہ جہاں وہ ہوں وہاں شدید گھٹن ہوجاتی ہے۔جوافراد ہر وقت Negative Vibes چھوڑتے ہیں ان کا فوری ”ہاتھ“ اور ”ساتھ“ چھوڑنے میں عفت اور عافیت کارازپنہاں ہے،ہمارے جس عزیز یا رفیق کا ”ڈی این اے“ اعلیٰ ہو وہ بدترین بحران یاطوفان میں بھی ہمیں مایوس نہیں کرتااورتنہا نہیں چھوڑتا۔ سبھی ہاتھ ملانے والے دوست نہیں ہوتے لہٰذاء دیرپا اورپائیدار دوستی کیلئے حسب نسب ضروردیکھیں،”کمی“ میں کوئی بڑی”کمی“ ضرورہوتی ہے۔کمی کے ساتھ سلام دعا ضرور رکھیں لیکن وہ ہرگز دوستی، رشتہ داری اوراعتماد کے قابل نہیں ہوتے۔یادرکھیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سبھی نبیوں کا مقام برابر نہیں اس طرح ہم انسانوں کے بھی مختلف درجے ہے لہٰذاء جس انسان میں ”حمیت“نہ ہواسے ہرگز”اہمیت“ نہ دیں۔جس طرح گھوڑا،گدھا اورگدھ برابر نہیں ہوسکتے اس طرح کوئی مردہ ضمیر کسی زندہ ضمیر کامتبادل نہیں ہوسکتا۔ہم داناؤں سے وفاؤں کی امیدکرسکتے ہیں جبکہ نادان دوست دانا دشمن سے بدتر ہوتاہے، میں نادان دوست کی بجائے کسی ناتواں دوست پراعتماد کرنابہتر سمجھتا ہوں۔یادرکھیں اگر ہماری زندگی میں ”لوگ“زیادہ ہیں تو”روگ“ بھی زیادہ ہوں گے لہٰذاء ہمیں ”مقدار“ کی بجائے ”معیار“پرفوکس کرناہوگا۔
ہرعہد میں جذبہ اورتجربہ بیش قیمت رہا ہے،ان دونوں کاکوئی متبادل نہیں۔ہماری قومی سیاست میں شعبدہ بازوں اورزبان درازوں کی بہتات ہے جبکہ جہانگیرخان ترین،مخدوم سیّد احمدمحمود،شاہدخاقان عباسی،شیخ رشید احمد،چوہدری نثارعلی خاں،سردارذوالفقار علی خان کھوسہ۔انعام اللہ خان نیازی،خسروبختیار، مشاہد حسین سیّد، نواب غوث بخش باروزئی،رانا نذیراحمدخاں، ممتازقانون دان حامد خان،چوہدری برجیس طاہر اور جسٹس (ر) وجیہہ الدین سے سنجیدہ،فہمیدہ اورعمررسیدہ سیاستدان کمیاب ہیں۔کوئی ریاست اپنی سیاست میں مداخلت جبکہ اپنے زیرک،تجربہ کار اور باکردار سیاسی قیادت کے ضیاع کی متحمل نہیں ہو سکتی۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں زیادہ تر”گِدھوں“ اور”گَدھوں“کاجھنڈ حکمرانوں کامقرب بن جاتا ہے، اقتدار کے ایوانوں میں داناؤں کی دال نہیں گلتی بلکہ ان کیخلاف گھٹیا سازشوں سے انہیں منظر سے ہٹادیاجاتا ہے۔ہمارا ہردوسرا وزیراعظم سیاسی”بونوں“اور ”بونگوں“ کے جھرمٹ میں خودکوقدآورسمجھتا ہے،نااہل حکمران”بردباروں“ کی بجائے ”بزداروں“کوپسندکرتے ہیں۔جس سیاسی کردار کاکنٹرول کسی دوسرے کے ہاتھوں میں ہووہ زیادہ دیر تک راج نہیں کرسکتا،یادرکھیں ”مقبول“ ہو نے سے ”معقول“اورمعتدل ہونازیادہ اہم ہے۔جولوگ جہاندیدہ،فہمیدہ اورسنجیدہ شخصیات کے ساتھ مشاورت،ان پراعتماداورانحصار کرتے ہیں انہیں زیادہ تر نقصان نہیں ہوتا۔ انسان داناؤں کی صحبت میں دانائی جبکہ احمقوں کے قرب میں حماقت کرنا سیکھتا ہے،واقعی انسان ا پنے حلقہ احباب سے پہچانے جاتے ہیں۔”دھوپ“ کااپنا مخصوص اور منفرد”روپ“ہے لیکن اس کی تپش سے بال سفید نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے ”فضل“سے جس انسان کے سر پر”چاندی“کی ”فصل“اتر آئے وہ ”سونا“ بن جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے معاشرے کے زمانہ شناس اورنبض شناس بزرگ شجرسایہ دار، قابل قدر،قابل عزت اورقابل تقلید ہیں۔متمدن معاشروں میں ان کی علمیت،اہلیت اورقابلیت سے بھرپوراستفادہ کیاجاتا ہے۔زندگی میں پیش آنیوالے حادثات،مشاہدات اورتجربات بھی انسان کوکندن بنادیتے ہیں۔ بندگلی سے باہرکا راستہ تلاش کرنے کیلئے”بینائی“ نہیں ”دانائی“ کام آتی ہے۔جو اپنی یادوسروں کی بیویوں کے”مکروں“ یا ”بہکاوؤں“میں آتے ہوئے اپنے بھائیوں یعنی ”بازوؤں“کوکاٹ دیتے ہیں وہ یادرکھیں اگر کسی مرد کی زندگی میں ہزاروں خواتین ہوں توبھی موت کی صورت میں اس کی میت کوچار مردکندھادیتے ہیں سودرست اوردوررس فیصلے کرنے کیلئے”زمانہ“ شناس اور”زنانہ“ شناس ہونا ضروری ہے۔ بیڈروم اور ڈرائنگ روم کے معاملات مختلف ہوتے ہیں لہٰذاء بیٹھک میں سیاسی رفقاء کار کی مشاورت سے ہونیوالے فیصلے بیڈروم میں تبدیل نہیں ہوتے۔
ہم پاکستان میں ایک طرف برین ڈرین کے اندوہناک واقعات سنتے ہیں جبکہ دوسری طرف عمدہ سیاسی اورانتظامی صفات کے حامل سنجیدہ، دوراندیش اور تجربہ کارسیا ست کاروں کودیوار کے ساتھ لگادیاجاتا ہے۔جوسیاستدان اپنی اپنی سیاسی جماعت کی قیادت کا طواف نہیں کرتے اورقصیدہ نہیں پڑھتے انہیں مقرب نہیں بنایاجاتا۔بدقسمتی سے ایوان اقتدار سمیت ہماری سیاسی اورمذہبی پارٹیز میں اہم عہدوں کیلئے ”مالش“اور”پالش“کاہنر بہت کام آتا ہے۔طلبہ سیاست نے قومی سیاست کوبڑے گوہرنایاب دیے ہیں، سٹوڈنٹ یونینزکی باصلاحیت قیادت کو قومی سیاست کاقیمتی اثاثہ سمجھا جاتا تھا پھر یہ نرسری بندکردی گئی لہٰذاء آج ہماری ریاست کوسیاسی قیادت کی”قلت“ جبکہ قومی سیاست کو”ذلت“ کاسامنا ہے، سوہماری قومی سیاست میں جوگنتی کے قدآوراورزیرک کرداربچے ہوئے ہیں ان سے استفادہ کرنے کیلئے انہیں عزت اوراہمیت دیں۔جہانگیرخان ترین سے مستقل مزاج منتظم،صنعتکار اورمعتدل سیاست کار روزروزپیدانہیں ہوتے،وہ 4جولائی1953ء کواللہ نوازترین کے ہاں پیداہوئے۔وہ ایک وضع دار سیاسی شخصیت ہیں،یقیناان میں شخصی خامیاں بھی ہوں گی لیکن خوبیاں،توانائیاں اورکامیابیاں بہت زیادہ ہیں۔ میں آج بھی انہیں قومی سیاست کا شہ سوارسمجھتا ہوں۔وہ رحیم یار خان اورلودھراں سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے، ان کے پاس اگست2004ء سے نومبر2007ء تک مرکز میں وزارت انڈسٹری کاقلمدان رہا۔ انہوں نے عمران خان کے کٹھن وقت میں ان کاہاتھ تھام تھا۔جہانگیر خان ترین نے2011ء سے2019ء تک پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے اس جماعت کوپنجاب سمیت چاروں صوبوں میں منظم کیا۔عمران خان کے ساتھ”بزداروں“ کاہجوم تھا تاہم جہانگیرخان ترین سمیت مٹھی بھر”بردبار وں“ کوایک سازش کے تحت توہم پرست اورخودپرست کپتان سے دورکردیا گیا۔
ڈسٹرکٹ لودھراں کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی یقینی بنانے اور مقامی افراد کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے جہانگیر خان ترین کی کمٹمنٹ اور گراں قدر خدمات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود8فروری2024ء کے عام انتخابات میں جہانگیر خان ترین کو ہرادیا گیا، ان کی شکست مخصوص پروپیگنڈاسمیت مخصوص سازش کاشاخسانہ تھی،یادرکھیں ”مردم پاکستان“ کا”مردم شناس“نہ ہونا ان کی متعدد محرومیوں کاسبب بنتا ہے۔ اگر باشعور ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ کرتے وقت امیدوار کے افکار،سیاسی کردار،تجربہ اورقدکاٹھ کو دیکھتے تویقینا جہانگیر خان ترین کے سواکوئی دوسرا فرد ان کاحسن انتخاب نہ ہوتا۔پاکستان میں سنجیدہ سیاست کا”استعارہ“ ہوتے ہوئے جہانگیرخان ترین کااستحکام پاکستان پارٹی کی قیادت سے دستبردارہونا اورسیاسی طورپر فعال کردارادا نہ کرنا ہماری قومی سیاست کے زوال کا”اشارہ“ہے۔انہیں آئی پی پی کی قیادت کیلئے منایا اوران کی سیاسی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایاجاسکتا تھا۔جہانگیر خان ترین ایک سیلف میڈ اورکامیاب بزنس مین ہیں،ان کی سیاست میں دلچسپی بوجوہ محدود ہوگئی ہے لیکن سنجیدہ سیاسی کارکنان کی جہانگیرخان ترین کی شخصیت اوران کے طرزسیاست میں دلچسپی آج بھی برقرار ہے۔جہانگیرخان ترین سے سنجیدہ،فہمیدہ اورجہاندیدہ سیاستدان ہماری ریاست اورسیاست کی ضرورت ہیں۔ہزاروں پردہ نشین پیرپرست، بزدار،بخاری، چورن فروش گِل،بدزبان چوہان بھی ایک دیوقامت سیاسی دانشورجہانگیر خان ترین کامتبادل نہیں ہوسکتے۔عمران خان نے اپنے آس پاس”منڈوں“اورمونچھ بردار”غنڈوں“کارش دیکھتے ہوئے اپنے قصر کی”منڈیروں“ پر بیٹھے مٹھی بھر داناپرندے اڑادیے تھے۔
جب اِن ہاؤس تبدیلی نے تبدیلی سرکار کی دہلیز پردستک دی توکپتان اس بحران میں سیاسی طوفان کاتیز”بہاؤ“دیکھتے ہوئے اپنی ”ناؤ“ سے باری باری اپنے کٹھن دور کے رفقاء کواتارتے رہے لیکن اس کے باوجودان کی ناؤ غرقاب ہوگئی یعنی بوجھ کوئی دوسراتھا۔پی ٹی آئی کی شہرت میں عمرا ن خان کی شخصیت کاکرشمہ بھی شامل ہے لیکن جہانگیر خان ترین اورعبدالعلیم خان سمیت متعدد سینئر سیاستدانوں نے بھی اسے عوامی جماعت بنانے کیلئے اپنااپنا تن من اوردھن جھونک دیا تھا۔سیاسی”وزن“ اور”ویژن“ کے حامل وضع دارسیاستدان جہانگیرخان ترین اپنے نام کے مفہوم کی طرح ”فاتح عالم“ہیں،انہوں نے عمران خان کووزیراعظم بنانے میں کلیدی کرداراداکیاتھا۔انہوں نے اپنے سیاسی اثرورسوخ اورجوڑتوڑ کی مہارت کومرکزاورپنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت بنانے کیلئے استعمال کیا لیکن جوافراد کانوں کے کچے ہوں وہ اپنے اچھے رفقاء کوخود سے دورکربیٹھتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں جس کے ساتھ ایک بار”عمرہ“ کیا ہوپھر”عمر“بھر اس کاساتھ نہیں چھوڑاجاسکتا۔عوام آج بھی عمران خان کی”بشری“ خامیوں کی پرواہ نہیں کرتے لیکن”بشریٰ“نامی متنازعہ فیصلے نے عمران خان کو”عرش“ سے ”فرش“ پر اور”ایوان“ سے ”زندان“ میں پہنچادیا۔رجیم چینج کے دوران اوربعدازاں مخصوص لونڈوں،لونڈیوں اوربزداروں میں سے کوئی کپتان کاسہارانہیں بنااورکپتان اپنی جماعت کوتختہ مشق بناتے ہوئے بار بار اپنے ٹیم ممبرز تبدیل کرتے اوراناڑیوں کوعہدوں سے نوازتے رہے۔یادرکھیں کوئی نحیف وناتواں بشر یا شجر بپھری ہواؤں کے مقابل زیادہ دیر نہیں ٹھہرسکتا لیکن چٹانوں کوطوفانوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔