مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل و امریکا کے درمیان جاری جنگ کے باعث خطے کی سیاحت کی صنعت کو روزانہ تقریبا 60 کروڑ ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سیاحت کے ایک ادارے کے اندازوں کے مطابق، جنگ کے نتیجے میں پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور مسافروں میں بڑھتی ہوئی تشویش نے خطے کی سیاحتی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب تہران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خلیجی ممالک کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔
عالمی سیاحت و سفر کونسل کی صدر گلوریا گیویرا نے کہا کہ اگرچہ بعض اوقات رکاوٹیں مختصر مدت کے لیے ہوتی ہیں، مگر ان کے اثرات تیزی سے بڑے معاشی نقصانات میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس سے سیاحتی مقامات، کاروبار اور وہاں کام کرنے والے افراد سب متاثر ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جنگ کے خدشات کے باعث بڑی تعداد میں سیاحوں نے اپنے سفری منصوبے منسوخ کر دیے ہیں۔ صرف دبئی میں 6 مارچ تک کے ہفتے کے دوران مختصر مدت کے لیے کرائے پر دی جانے والی 80 ہزار سے زیادہ رہائش گاہوں کی بکنگ منسوخ ہو گئی۔
جنگ سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا کہ اس سال مشرقِ وسطیٰ میں آنے والے غیر ملکی سیاح تقریبا 207 ارب ڈالر خرچ کریں گے۔ دبئی جیسے شہر اپنی عیش و آرام کی سہولیات، سال بھر دھوپ اور نسبتا پُرسکون ماحول کی وجہ سے عالمی سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے تھے، تاہم جنگی صورتحال نے اس صنعت کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔
جھڑپوں کے اثرات بعض مشہور ہوٹلوں تک بھی پہنچے۔ میزائلوں کو روکنے کے دوران گرنے والا ملبہ دبئی کے معروف ہوٹل برج العرب پر گرا، جبکہ پام جمیرا میں واقع فیرمونٹ دی پام کو بھی نقصان پہنچا۔
خطے کے بڑے ہوائی مراکز جیسے ابوظہبی، دبئی، دوحہ اور بحرین روزانہ عموما 5 لاکھ سے زیادہ مسافروں کو سنبھالتے ہیں، مگر پروازوں کی منسوخی کے باعث گزشتہ ہفتے تقریبا 40 لاکھ مسافر مختلف ہوائی اڈوں پر پھنس گئے۔ بعد ازاں سینکڑوں پروازیں دوبارہ شروع کی گئیں تاکہ ہزاروں مسافروں کو واپس بھیجا جا سکے۔
دبئی میں گزشتہ ہفتے پروازیں دوبارہ شروع کی گئیں اور جمعرات تک تقریبا ایک چوتھائی خدمات بحال ہو چکی تھیں۔ قطر نے بھی ہفتے کے اختتام پر اپنی فضائی حدود کھولی، تاہم اتوار کو دوبارہ بند کر دی گئیں، البتہ منگل کے روز محدود تعداد میں خصوصی اجازت کے ساتھ پروازیں چلائی گئیں۔
ماہرین کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ پہلے بھی کئی بار جنگی حالات کے بعد سیاحت کے شعبے میں تیزی سے بحالی دیکھ چکا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یورپ اور ایشیا کے درمیان اس خطے کی اہم جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے کاروباری سفر جلد بحال ہو سکتا ہے، تاہم تفریحی سیاح متبادل مقامات کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ماہرِ سیاحت میتھیو پولمین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے خاندان کے ساتھ تعطیلات گزارنے کے لیے جگہ منتخب کر رہا ہو تو وہ آسانی سے کسی دوسرے محفوظ مقام کا رخ کر سکتا ہے۔ تاہم بعض ماہرین پر امید بھی ہیں۔ تجزیہ کار رچرڈ کلارک کے مطابق جیسے ہی جنگی صورتحال ختم ہو گی، سیاح دوبارہ اس خطے کا رخ کرنا شروع کر دیں گے کیونکہ سیاح عام طور پر ایسے واقعات کو جلد بھلا دیتے ہیں۔