مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ایران میں موجود تقریبا دو ہزار پاکستانی طلبہ کو نکال لیا گیا ہے۔ منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے ارکان کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ تہران میں اہم عمارتوں پر حملوں کے پیشِ نظر پاکستانی سفارت خانہ احتیاطی طور پر تہران سے تقریبا ڈیڑھ سو کلو میٹر دور منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ ایران میں حالات اس وقت انتہائی غیر یقینی ہیں اور تیل صاف کرنے کے کارخانوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں پاکستانی سفارت خانہ اور دو قونصل خانے چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں اور وہاں موجود پاکستانی شہریوں کو ہر ممکن مدد اور ہنگامی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ ایرانی شہروں میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز میں بحران سے نمٹنے کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں روزانہ تقریبا پانچ سو فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر پاکستانی طلبہ کو ایران سے نکال لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اب بھی کتنے طلبہ ایران میں موجود ہیں۔ اس موقع پر رکنِ اسمبلی نتاشا دولتانہ نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق، ایران میں تقریبا پینتیس ہزار پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں کو وزارتِ خارجہ کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ سے پاکستانیوں کے بڑے پیمانے پر انخلا کی ضرورت نہیں ہے۔ وزارتِ خارجہ کے بحران انتظامی مرکز کے سربراہ نے کمیٹی کو خطے کے مختلف ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی تعداد اور ان کی واپسی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں اچانک اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، خاص طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی پروازوں کے کرایوں میں اضافے پر سوال اٹھائے گئے۔
قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ کے جاری بیان کے مطابق خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد رجسٹرڈ ہے، تاہم ان میں سے کم لوگوں کو فوری انخلا کی ضرورت ہے۔قطر میں پاکستانی مشن کے پاس دس ہزار سے زیادہ افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے جن میں سے دو سو پندرہ افراد کو فوری مدد کی ضرورت بتائی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں آٹھ ہزار پانچ سو سے زیادہ پاکستانیوں نے رجسٹریشن کرائی جبکہ چار ہزار پانچ سو سے زیادہ پاکستانی مسافر وہاں عارضی طور پر موجود تھے، جن میں سے چار ہزار چار سو افراد چالیس تجارتی پروازوں کے ذریعے وہاں سے روانہ ہو چکے ہیں۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ سعودی عرب میں تقریبا پچیس لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور وہاں صورتحال کشیدہ ہونے کے باوجود مستحکم ہے۔ قطر میں تقریباًساڑھے تین لاکھ پاکستانی رہتے ہیں جہاں حالات مجموعی طور پر معمول کے مطابق ہیں، تاہم احتیاطی طور پر دس ہزار سے زیادہ پاکستانیوں نے ممکنہ انخلا کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے۔
کویت میں ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی مقیم ہیں اور وہاں بھی صورتحال کشیدہ مگر قابو میں ہے۔ عمان میں تقریبا تین لاکھ بیاسی ہزار پاکستانی رہتے ہیں اور وہاں حالات مستحکم ہیں۔ عمان کی فضائی حدود کھلی ہیں اور پاکستان کے لیے پروازیں جاری ہیں۔