‘ایرانی بچیاں اگر زندہ ہوتیں تو برقعے میں رہتیں’، ایران میں سکول پر حملے میں ہلاک پونے والی بچیوں سے متعلق امریکی سیاستدان کا متنازع بیان اور عالمی ردِعمل

امریکی قدامت پسند رہنما میٹ شلیپ کے ایک بیان نے عالمی سطح پر ایک شدید تنازع کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے جنوبی ایران میں ایک پرائمری گرلز اسکول پر امریکی اور اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں درجنوں کمسن بچیوں کی ہلاکت پر متنازع تبصرہ کیا جس پر پوری دنیا سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

دی نیو ریپبلک کے مطابق، پیئرز مورگن اَن سِنسرڈ نامی پروگرام میں یہ گفتگو سامنے آئی۔اس پروگرام میں ایران کی جنگ اور اس اسکول حملے پر بحث جا رہی تھی جس میں 180 کے قریب لڑکیاں ہلاک ہوئیں۔

پروگرام میں شریک صحافی پیٹر بینارٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ‘اگر امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ نہ کرتے تو یہ بچیاں زندہ ہوتیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ان ممالک کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں تھا، جبکہ اسرائیل اور امریکہ کے پاس بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

اس پر میٹ شلیپ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بچیاں زندہ ہوتیں تو بھی ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہی ہوتیں جہاں انہیں برقع پہننا پڑتا اور وہ ایک سخت اور غیر مساوی معاشرتی نظام میں رہتیں۔ ان کے اس بیان پر پروگرام کے میزبان پیئرز مورگن نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔

بعد میں شلیپ نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ان حملوں سے خواتین اور بچوں کو نقصان پہنچا، کیونکہ ان کے مطابق وہ لڑکیاں ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزارنے والی تھیں جہاں انہیں مساوی حقوق اور آزادانہ پیشہ اختیار کرنے کے مواقع حاصل نہیں ہوتے۔

ان کے اس بیان پر پروگرام میں موجود تجزیہ کار جینک ایوگر نے سخت ردِعمل دیا اور کہا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں مار دینا درست ہے؟ اس پر شلیپ نے کہا کہ ان کا یہ مطلب نہیں تھا۔

میٹ شلیپ امریکہ کی ایک بااثر قدامت پسند تنظیم امریکن کنزرویٹو یونین کے سربراہ ہیں جو ہر سال کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے، جس میں ریپبلکن پارٹی کے بڑے رہنما شریک ہوتے ہیں۔

ان کے بیان پر ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کے بارے میں تعصب کا مظاہرہ کیا بلکہ ایران کے معاشرتی حقائق کو بھی غلط انداز میں پیش کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اگرچہ ایران میں بعض سماجی اور قانونی مسائل پر تنقید کرتی ہیں، تاہم وہاں خواتین کی تعلیم کی شرح کافی بلند ہے اور جامعات میں خواتین طلبہ کی تعداد بھی زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران میں برقع عام نہیں ہے بلکہ زیادہ تر خواتین چادر یا دیگر روایتی لباس پہنتی ہیں جس میں چہرہ اور ہاتھ کھلے ہوتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران ایسے بیانات مسلمانوں اور عرب معاشروں کے خلاف تعصب کو بڑھاتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان معاشروں میں شہریوں کی زندگیوں کی قدر کم ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر ایرانی شہری، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو محفوظ اور مکمل زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں