ازبکستان کے صدرشوکت مرزائیوف نے مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں متعدد خلیجی رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، قطر، کویت اور عمان کی قیادت سے رابطے کیے گئےجن میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، تنازعات اور سلامتی کو درپیش خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ازبک صدر نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النیہان سے رابطہ کیا جس دوران دونوں رہنماؤں نے مقدس ماہِ رمضان کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کو بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے منافی اور امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ صدر مرزائیوف نے اماراتی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور وہاں موجود ازبک شہریوں کو دی جانے والی سہولتوں اور وطن واپسی کے انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔ اماراتی صدر نے بھی ازبکستان کی جانب سے اظہارِ حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
صدر مرزائیوف نے اردن کے فرمانروا عبداللہ دوم سے بھی گفتگو کی۔ بات چیت میں خطے میں بڑھتی کشیدگی علاقائی سلامتی اور باہمی تعلقات پر اظہار خیال ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ممالک کی خودمختاری اور شہریوں کے امن کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات فوری طور پر روکے جائیں اور مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ اس موقع پر اردن کے فرمانروا نے ازبک صدر کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ۔
ازبک صدر نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں علاقائی سلامتی کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں مسلم اُمہ کو اتحاد، باہمی احترام اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی پرتشدد کارروائیوں کو فوری روکا جانا چاہیے۔ بحرینی بادشاہ نے ازبکستان کی جانب سے اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔
آج ہی کے روز قطر کے امیر تمیم بن حمد التھائی سے گفتگو میں بھی خطے کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ صدر مرزائیوف نے قطر میں مقیم ازبک شہریوں کی سلامتی اور وطن واپسی کے اقدامات پر امیرِ قطر کا شکریہ ادا کیا، جبکہ قطری قیادت نے دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ازبک صدر نے کویت کے ولی عہد صباح الخالد الصباح سے بھی رابطہ کیا۔ اس دوران مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت اور انفراسٹرکچر پر حملوں پر گہری تشویش ظاہر کی گئی۔ازبک صدر نے کویت کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور وہاں موجود ازبک شہریوں کی مدد پر شکریہ ادا کیا۔ کویت کی قیادت نے اس مشکل وقت میں ازبکستان کی حمایت کو سراہا۔
صدر مرزائیوف نے عمان کے سلطان حیتھم بن طارق سے ٹیلیفون پر گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام تنازعات کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ صدر ازبکستان نے عمان کے مثبت ثالثی کردار کو سراہا اور وہاں موجود ازبک شہریوں کے لیے کیے گئے انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔ عمان کے سلطان نے بھی اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے مستقبل میں اعلیٰ سطح دورے کے کامیاب انعقاد کی امید ظاہر کی۔
تمام رابطوں میں ازبک صدر نے واضح کیا کہ موجودہ نازک حالات میں خطے کے ممالک کے درمیان اتحاد، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی امن و استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔