‘آپ کی آزادی کا وقت قریب ہے’، ایران پر حملوں کے بعد امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کیا کہا؟

ایران کے شہر تہران میں آج صبح متعدد فضائی حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران میں “بڑی جنگی کارروائیاں” شروع کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا مقصد امریکی عوام، بیرونِ ملک تعینات فوجیوں اور اتحادی ممالک کو ایران کی جانب سے لاحق خطرات سے بچانا ہے۔

ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سرگرم ہے اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے امریکہ کارروائی کر رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک سابقہ کارروائی میں ایران کے فارڈو، نطنز اور اصفہان میں موجود جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے بارہا معاہدہ کرنے کے مواقع ضائع کیے اور اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو جاری رکھا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ آپریشن کا مقصد ایران کے میزائل پروگرام اور دفاعی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم ان کے میزائلوں کو تباہ کرنے جا رہے ہیں اور ان کی میزائل انڈسٹری کو زمین بوس کر دیں گے۔ یہ مکمل طور پر، پھر سے، تباہ ہو جائے گی۔”

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں سرگرم ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے سکیورٹی اہلکار ہتھیار ڈال دیں، بصورت دیگر انہیں “یقینی موت” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “آپ کی آزادی کا وقت قریب ہے” اور انہیں گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایرانی عوام کی حمایت کر رہا ہے اور یہ ان کے لیے اپنی تقدیر بدلنے کا موقع ہے۔

ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ اس کارروائی میں امریکی فوجیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے بقول یہ اقدام مستقبل کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے امریکی مسلح افواج کو دنیا کی سب سے طاقتور فوج قرار دیتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا

اس موقع پر انہوں نے امریکی مسلح افواج اور امریکا کے لیے دعائیں بھی کیں ۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں