پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ رات کے سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کے بعد عالمی برادری نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب پاکستان نے 22 فروری کو افغانستان کے حدود کے اندر 7 مقامات پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں کے جواب میں افغان طالبان حکومت نے گزشتہ رات پاکستان کے سرحدی علاقوں پر فائرنگ شروع کی جس کے بعد اگلی صبح تک لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے تین شہروں، کابل، پکتیکا اور قندھار میں فضائی حملے کیے گئے جن کی افغان طالبان ترجمان نے بھی تصدیق کی۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغان فورسز ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی فوج کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔ طالبان کا مؤقف ہے کہ یہ حملے اس ہفتے کے آغاز میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی قانون، خصوصا انسانی ہمدردی کے قوانین کی مکمل پاسداری کریں اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح بنائیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی پاکستان اور افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات بات چیت اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں کے تحت حل کریں۔ انہوں نے رمضان المبارک کے مہینے کو ضبط نفس اور اسلامی یکجہتی کا وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران تعمیری مذاکرات میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
روس نے بھی سرحد پار حملے فوری طور پر روکنے اور سفارتی طور پر مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر دونوں فریق آمادہ ہوں تو روس ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
چین نے بھی پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ بیجنگ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور صورتحال کو ٹھنڈا کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے طالبان پر ملک میں دہشت گردی اور بدامنی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعے صورتحال کو مستحکم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن اب صبر کی حد ختم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج بھرپور جواب دے رہی ہیں اور اب فیصلہ کن کارروائی ہوگی۔
دوسری جانب افغانستان کے سابق صد حامد کرزئی نے کہا کہ افغان عوام اپنے وطن کا ہر حال میں متحد ہو کر دفاع کریں گے اور کسی بھی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور افغانستان کے ساتھ باہمی احترام اور مہذب تعلقات کا راستہ اختیار کرے۔