کیا دانتوں کے برش میں موجود مائیکرو پلاسٹک ذرات انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں؟

دنیا بھر میں نہایت باریک پلاسٹک ذرات، جنہیں مائیکرو پلاسٹکس کہا جاتا ہے، انسانی صحت کے حوالے سے ایک نئی تشویش بن چکے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ذرات ہوا، پانی اور خوراک کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سائنس دانوں نے روزمرہ استعمال کی دانت صاف کرنے والی اشیا، جیسے ٹوتھ برش اور ڈینٹل فلاس، کو بھی ممکنہ ذریعہ قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس سے مکمل طور پر بچنا اب تقریبا ناممکن ہو چکا ہے کیونکہ یہ ماحول میں ہر جگہ موجود ہیں۔ مختلف مطالعات میں یہ ذرات انسانی جسم کے کئی حصوں، حتیٰ کہ دل اور دماغ کے بافتوں میں بھی پائے گئے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے۔

زیادہ تر دانت صاف کرنے والی اشیا پلاسٹک سے تیار کی جاتی ہیں۔ ٹوتھ برش کے ریشے عموما نائلون نامی پلاسٹک سے بنے ہوتے ہیں، جب کہ ڈینٹل فلاس ایک نہایت باریک مصنوعی دھاگا ہوتا ہے۔ ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ واش کی پیکنگ بھی عموما پلاسٹک کی ہوتی ہے۔ جب ہم دانت صاف کرتے یا فلاس استعمال کرتے ہیں تو رگڑ کی وجہ سے پلاسٹک کے انتہائی چھوٹے ذرات الگ ہو کر منہ میں رہ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ذرات مسوڑھوں کی باریک دراڑوں کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، نگلے جا سکتے ہیں یا منہ کے نرم بافتوں سے جذب ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حقیقت میں کتنی مقدار جسم میں جاتی ہے اور آیا یہ صحت کے لیے نمایاں خطرہ بنتی ہے یا نہیں۔

کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ذرات منہ میں موجود بیکٹیریا کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں، سوزش پیدا کر سکتے ہیں یا خلیوں کے جینیاتی مادے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود دانتوں اور صحت کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ابھی تک کوئی مضبوط اور حتمی سائنسی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ دانت صاف کرنے والی اشیا سے خارج ہونے والے مائیکرو پلاسٹکس سنگین بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

اسی لیے دانتوں کے ڈاکٹر واضح طور پر کہتے ہیں کہ دانت صاف کرنا یا فلاس استعمال کرنا چھوڑ دینا صحت کے لیے کہیں زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ دانتوں کی صفائی نہ کرنے سے کیڑا لگنے، مسوڑھوں کی بیماری اور دانتوں کے ضائع ہونے جیسے مسائل یقینی طور پر پیدا ہو سکتے ہیں، جب کہ مائیکرو پلاسٹکس کے ممکنہ نقصانات ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہیں۔

بازار میں پلاسٹک سے پاک متبادل بھی دستیاب ہیں، جیسے بانس سے بنے ٹوتھ برش، ریشم کے دھاگے سے تیار کردہ فلاس، گولیوں کی شکل میں ٹوتھ پیسٹ اور شیشے یا دھات کی پیکنگ۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان متبادل اشیا کی کارکردگی مختلف ہو سکتی ہے، بعض افراد کے لیے یہ کم آرام دہ ثابت ہوتی ہیں اور کچھ صورتوں میں مسوڑھوں کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ عام مصنوعات کے مقابلے میں مہنگی بھی ہوتی ہیں۔ ابھی تک اس بات کا واضح ثبوت موجود نہیں کہ یہ متبادل مائیکرو پلاسٹکس کی مقدار کو نمایاں حد تک کم کر دیتے ہیں۔

ماہرین چند سادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دانت نرم ہاتھ سے صاف کیے جائیں تاکہ برش کے ریشے جلد نہ ٹوٹیں اور مسوڑھے محفوظ رہیں۔ نرم ریشوں والا ٹوتھ برش استعمال کیا جائے اور اسے تین سے چار ماہ بعد تبدیل کر لیا جائے کیونکہ پرانے ریشے زیادہ ٹوٹنے لگتے ہیں۔ برش کو زیادہ گرمی اور دھوپ سے بچا کر رکھا جائے کیونکہ حرارت پلاسٹک کو تیزی سے خراب کرتی ہے۔ دانت صاف کرنے کے بعد اچھی طرح تھوک دینا اور ہلکا سا پانی منہ میں لے کر خارج کرنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اصل توجہ خوف پھیلانے کے بجائے متوازن احتیاط اور بہتر طرزِ زندگی پر ہونی چاہیے۔ دانتوں کی صفائی کے فوائد واضح اور سائنسی طور پر ثابت شدہ ہیں، جب کہ مائیکرو پلاسٹکس کے نقصانات پر تحقیق ابھی جاری ہے۔ اس لیے گھبرانے کے بجائے باقاعدہ دانت صاف کرنا اور مجموعی صحت کا خیال رکھنا ہی دانش مندی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں