اسلام آباد میں ’’نو چائلڈ لیفٹ بہائنڈ‘‘مہم کا آغاز، تین سال کے اندر سکول سے باہر تمام بچوں کو داخل کرایا جائے گا

پاکستان کے وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے بدھ کے روز ’’نو چائلڈ لیفٹ بہائنڈ‘‘ مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد آئندہ تین برسوں میں اسکول سے باہر تمام بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کرانا ہے۔ ملک بھر میں اس وقت تقریبا دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ چاروں صوبوں سمیت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

وزارت تعلیم کے مطابق، یہ مہم ایک مربوط اور مقررہ مدت پر مشتمل اقدام ہے، جس کے تحت اسلام آباد کی حدود میں رہنے والے ہر ایسے بچے کی نشاندہی کی جائے گی جو اسکول نہیں جا رہا اور اسے معیاری اور مستقل تعلیمی سہولت فراہم کی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ اس مقصد کے لیے مقامی آبادی، والدین، سماجی رہنماؤں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسکولوں کی کمی ہے تو نجی مکانات، مساجد یا دیگر عمارتوں کو عارضی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ سرکاری اسکولوں میں ڈبل شفٹ بھی شروع کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ تیز رفتار تعلیمی پروگرام بھی اس مہم کا حصہ ہوں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو جلد تعلیمی دھارے میں لایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی حمایت سے وزارت ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ یہ مہم کامیاب ہو۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت ریاست کی ذمہ داری کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس میں ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دی گئی ہے۔ وزیر تعلیم نے اس مہم کو شمولیت اور جوابدہی کا مشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ غربت، سماجی رکاوٹوں، معذوری یا دیگر وجوہات کی بنا پر کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔

وفاقی ایکشن پلان برائے اسکول سے باہر بچے 2025 تا 2030 کے تحت اسلام آباد میں گھر گھر سروے کیا جائے گا اور یونین کونسل کی سطح پر ایسے بچوں کا مکمل اندراج اور نقشہ سازی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے اوقات میں کلاسوں کا اجرا، تیز رفتار تعلیمی پروگرام اور متبادل تعلیمی راستے فراہم کیے جائیں گے۔ نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام اور براہ راست مانیٹرنگ کا طریقہ کار بھی اپنایا جائے گا تاکہ پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔ وزیر نے کہا کہ یہ محض اعلان نہیں بلکہ قابلِ پیمائش اور عملی عزم ہے، جس کے تحت زیادہ سے زیادہ داخلے، حاضری میں تسلسل اور معیاری نتائج کو یقینی بنایا جائے گا۔

دوسری جانب اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اندراج کا درست ریکارڈ جمع کرنے اور رجسٹریشن کی باقاعدگی کے لیے مہم شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں نجی اسکولوں کے نمائندوں، وفاقی نظامت تعلیم، وفاقی تعلیمی بورڈ اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مقصد کسی ادارے کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ شراکت داری، سہولت کاری اور درست اعداد و شمار کے ذریعے بہتر منصوبہ بندی کو یقینی بنانا ہے۔

ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ مستند اور تصدیق شدہ اندراجی معلومات کے بغیر یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ کتنے بچے پہلے ہی اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور کتنے باہر ہیں۔ درست اعداد و شمار کی بنیاد پر ہر یونین کونسل میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد معلوم کی جائے گی اور اسی کے مطابق حکمت عملی ترتیب دی جائے گی تاکہ اسلام آباد میں کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسکولوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے نہیں بلکہ مل کر کام کرنے آئے ہیں، اور ہر یونین کونسل کا ڈیٹا الگ الگ جانچا جائے گا۔

نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں کی درخواست پر اتھارٹی نے یکم مارچ سے 30 اپریل 2026 تک ایک مرتبہ کے لیے عام معافی کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے تحت جن اسکولوں کی رجسٹریشن یا تجدید کے معاملات زیر التوا ہیں وہ اس مدت میں بغیر جرمانے کے اپنی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ اتھارٹی نے تمام نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنے علاقوں میں قائم تمام اداروں کی تازہ فہرست فراہم کریں تاکہ ہر اسکول ضابطہ کار اور معاونت کے نظام کا حصہ بن سکے۔

حکام کے مطابق، اس پوری مشق کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، بہتر تعلیمی منصوبہ بندی کرنا، تعلیم تک رسائی بڑھانا اور اسلام آباد میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں