‘یہ مکمل طور پر پراپیگنڈا فلم ہے’، انوراگ کشیپ کی ‘دا کیرالا سٹوری 2 ‘ کے ٹیزر میں بیف کھلانے کے منظر پر سخت تنقید

بھارتی فلم ساز انوراگ کشیپ نے کیرالہ میں منعقدہ فلم فیئر ساؤتھ ایوارڈز کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فلم ‘دا کیرالا سٹوری 2’ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے کھلے لفظوں میں ’’پروپیگنڈا‘‘ فلم قرار دیا۔ انہوں نے نہ صرف فلم کے ٹریلر کو ’’بکواس‘‘ کہا بلکہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہتے ہوئے کہا کہ یہ فلم لوگوں کو تقسیم کرنے اور نفرت پھیلانے کی کوشش ہے۔

ایوارڈ تقریب کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انوراگ کشیپ نے کہا کہ ’’بیف پراٹھا سب سے بہترین ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خاص طور پر کیرالہ کے پراٹھے کی بات کر رہے ہیں تو انہوں نے وضاحت کی کہ وہ بیف پراٹھے کی بات کر رہے ہیں اور یہ انہیں بہت پسند ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ آج کل بیف کھانا مسئلہ سمجھا جاتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔

فلم کے ٹریلر سے متعلق سوال پر انہوں نے اسے ’’بکواس ٹریلر‘‘ قرار دیا۔ جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا یہ پکی بات ہے کہ فلم پروپیگنڈا ہے تو انہوں نے کہا، ’’بالکل۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فلم میں بیف کھلانے کا جو انداز دکھایا گیا ہے وہ حقیقت سے بعید ہے اور یہ کہ ’’لوگ کھچڑی بھی اس طرح نہیں کھلاتے جیسے فلم میں بیف کھلایا جا رہا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ فلم کے ٹریلر میں ایک منظر دکھایا گیا ہے جس میں مرکزی کردار کو اُس مسلم خاندان کی جانب سے زبردستی بیف کھلایا جاتا ہے جس میں وہ شادی کرتی ہے۔ اس منظر پر کیرالہ میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں کچھ لوگوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا تو بعض نے اسے طنزیہ انداز میں میمز کی شکل دے دی۔

دوسری جانب فلم کے ہدایت کارکماخیا نارائن سنگھ نے انوراگ کشیپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کشیپ کی کئی برسوں سے فلمیں ناکام ہو رہی ہیں اور وہ ’’حقیقت کو دیکھنے سے قاصر‘‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں فلم میں دکھائی گئی سچائی سے مسئلہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں دنیا کی سچائی سے مسئلہ ہے۔ ہدایت کار کا کہنا تھا کہ فلم کا ہر منظر حقیقی واقعات پر مبنی ہے اور اگر کشیپ چاہیں تو انہیں تحقیقاتی مواد بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق، ادھر 26 سالہ ماہر حیاتیات سری دیو نمبودری نے کیرالہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے فلم کی ریلیز روکنے اور اس کا سنسر سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کی درخواست دی ہے۔ عدالت نے منگل کے روز ہدایت دی کہ فلم ساز عدالت کے لیے خصوصی اسکریننگ کا انتظام کریں، جبکہ فلم کا ٹیزر بھی واپس لیا جا رہا ہے۔ فلم 27 فروری کو ریلیز کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم عدالتی کارروائی کے باعث اس کی نمائش پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں