قازقستان کی جنوب سمت میں روابط بڑھانے کی حکمتِ عملی میں پاکستان اور بھارت کہاں کھڑے ہیں؟

قازقستان کی روابط بڑھانے کی حکمت عملی میں پاکستان کا کردار جبکہ بھارت کو جغرافیائی اور سیاسی رکاوٹوں کے باعث نسبتا پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یوریشیا میں بدلتی ہوئی صورتِ حال، روس-یوکرین جنگ اور ایران سے متعلق غیر یقینی حالات کے بعد قازقستان نے عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل راستوں کی تلاش تیز کر دی ہے۔

ایشیا -پیسِفک ریجن پر نطر رکھنے والے ‘دی ڈپلومیٹ’ کے مطابق، خشکی میں گھرا ہوا ملک ہونے کے باعث قازقستان کے لیے سمندری بندرگاہوں تک رسائی نہایت اہم ہے۔ ماضی میں وہ ایرانی بندرگاہوں، خصوصاً چاہ بہار اور بندر عباس پر انحصار کرتا رہاہے، تاہم حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے بعد سپلائی چین متاثر ہوئی ہیں۔ اسی تناظر میں قازقستان نے بحیرہ عرب تک رسائی کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں، خاص طور پر کراچی بندرگاہ اور گوادر کو اہمیت دینا شروع کی ہے۔

حال ہی میں قازقستان کے صدر قاسم جوماروت توکائیف کے دورہ اسلام آباد کو اسی بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا سے ملانے کے لیے نئے راہداری منصوبوں پر بات چیت ہوئی۔ ان میں قازقستان، ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل مجوزہ ٹرانسپورٹ کوریڈور بھی شامل ہے، جس کے تحت افغانستان میں ریلوے لنک بچھا کر سامان کو کراچی کی بندرگاہ تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔اگر اس راستے کو عالمی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور سے جوڑا جائے تو خلیجی بندرگاہوں اور حتیٰ کہ بھارت تک رسائی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔

قازقستان نے جولائی 2025 میں ٹرانس افغان ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ کوریڈور منصوبے میں بھی شمولیت اختیار کی، جس کے تحت افغانستان کے مختلف شہروں کو ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان سے ملانے کی تجویز ہے۔ اس منصوبے میں لاجسٹکس مراکز اور فائبر آپٹک ڈھانچے کی تعمیر بھی شامل ہے تاکہ تجارتی اور ڈیجیٹل روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ٹرانس کیسپین کوریڈور کو افغان راستوں سے جوڑ کر یورپ تک رسائی بڑھانے کا تصور بھی زیر غور ہے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔ افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال، دشوار گزار پہاڑی علاقے اور مختلف ممالک کے ریلوے نظام میں تکنیکی فرق بڑے چیلنج ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی مسائل اور بھارت-پاکستان کشیدگی بھی علاقائی رابطوں کی راہ میں رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔
اگرچہ قازقستان بیک وقت بھارت اور پاکستان دونوں کی منڈیوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، مگر عملی طور پر زیادہ تر مجوزہ راستے پاکستان یا افغانستان کے ذریعے گزرتے ہیں، جس سے بھارت کا کردار محدود ہو جاتا ہے۔ بھارت طویل عرصے سے پاکستانی سرزمین کے راستے زمینی تجارت نہیں کرتا اور دوطرفہ کشیدگی کے باعث مستقبل قریب میں اس میں تبدیلی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے ماضی کے بڑے منصوبوں، جیسے ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائن، کو بھی متاثر کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کی بندرگاہ چاہ بہار سے متعلق امریکی پابندیوں کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے بھی بھارت اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ موجودہ تجارتی حجم زیادہ نہیں، لیکن یہ بندرگاہ طویل مدتی حکمت عملی میں اہم سمجھی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت قازقستان کے لیے جنوبی ایشیا میں ایک اہم دروازے کے طور پر ابھر رہا ہے، تاہم اسے مکمل متبادل نہیں بلکہ اضافی راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی بندرگاہوں کی گنجائش اور انفراسٹرکچر ایرانی بندرگاہوں کے مقابلے میں محدود ہے، جبکہ پاکستان کو اندرونی سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی مسائل کا بھی سامنا ہے، جس کا اثر سی پیک جیسے منصوبوں پر بھی پڑا ہے۔

مجموعی طور پر قازقستان کی جنوبی سمت پیش قدمی اس کی علاقائی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، لیکن ان منصوبوں کی کامیابی کا انحصار زمینی حقائق، سیکیورٹی چیلنجز اور خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان دیرینہ کشیدگی پر ہوگا، جو ممکنہ طور پر طویل عرصے تک اس حکمت عملی کو آزمائش میں رکھ سکتی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں