دنیا بھر میں لمبی عمر اور بہتر صحت کے راز تلاش کرنے کے لیے ہونے والی نئی سائنسی تحقیق میں ایک بار پھر انسانی جسم کا نہایت اہم حصہ مائٹوکانڈریا توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی گزارنے اور بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنے کا ممکنہ راز ہمارے جسم کے خلیات کے اندر موجود انہی ننھے مگر طاقتور اجزا میں چھپا ہو سکتا ہے۔
مائٹوکانڈریا کو سائنسی زبان میں خلیے کا پاور ہاؤس کہا جاتا ہے، کیونکہ یہی ہماری خوراک کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ یہ توانائی اے ٹی پی (ایڈینوسین ٹرائی فاسفیٹ) کی شکل میں بنتی ہے، جو جسم کے تقریبا ہر کام کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ چاہے بات جسمانی حرکت کی ہو، دماغی کارکردگی کی، مدافعتی نظام کی مضبوطی کی یا خلیات کی مرمت کی ، ان سب کے لیے توانائی درکار ہوتی ہے، اور یہ توانائی مائٹوکانڈریا ہی فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان کا کردار صرف توانائی بنانے تک محدود نہیں بلکہ یہ خلیات کے درمیان پیغام رسانی اور خراب حصوں کی صفائی کے عمل میں بھی حصہ لیتے ہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ مائٹوکانڈریا کی تعداد اور کارکردگی دونوں متاثر ہونے لگتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیات میں ایسے نقصان دہ مادے بھی بڑھ جاتے ہیں جنہیں ‘ری ایکٹو آکسیجن اسپیشیز’ یا آر او ایس کہا جاتا ہے۔ یہ مادے خلیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کمزوری، یادداشت کی بیماریاں، الزائمر اور بعض اوقات کینسر جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم سائنسدان ابھی تک اس بات پر متفق نہیں کہ آیا مائٹوکانڈریا کی خرابی بڑھاپے کی اصل وجہ ہے یا یہ خود عمر رسیدگی کا نتیجہ ہے۔ اس موضوع پر مزید تحقیق جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہماری روزمرہ عادات مائٹوکانڈریا کی صحت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ باقاعدہ ورزش سے نہ صرف نئے مائٹوکانڈریا بنتے ہیں بلکہ موجودہ مائٹوکانڈریا بھی زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے لگتے ہیں۔ تیز واک، دوڑ، جم میں ورزش یا طاقت بڑھانے والی مشقیں خلیات کی توانائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ اسی طرح متوازن اور قدرتی غذا بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ خوراک ہی بالآخر توانائی میں تبدیل ہوتی ہے۔ دالیں، اناج، سبزیاں، مچھلی اور صحت مند چکنائیاں جسم کو وہ اجزا فراہم کرتی ہیں جو خلیات کی کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ ماہرین غیر ضروری سپلیمنٹس کے بجائے قدرتی غذا پر زیادہ زور دیتے ہیں۔
نیند کو بھی اس سلسلے میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند کے دوران خلیات اپنے خراب حصوں کی مرمت اور صفائی کرتے ہیں، جس سے مائٹوکانڈریا دوبارہ بہتر انداز میں کام کرنے لگتے ہیں۔ نیند کی کمی طویل مدت میں خلیاتی نظام کو کمزور کر سکتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مائٹوکانڈریا کو لمبی عمر کی واحد کنجی قرار دینا ابھی قبل از وقت ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ صحت مند طرزِ زندگی خلیات کو مضبوط اور جسم کو توانا رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور مکمل نیند ہی وہ سادہ اصول ہیں جو سائنسی تحقیق کی روشنی میں بھی آج تک سب سے مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔