ازبکستان اور ترکی کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کونسل کے چوتھے اجلاس کا انعقاد، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، باہمی تجارت 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر

ازبکستان کے صدر شوکت مرزا ئیوف اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کی مشترکہ صدارت میں جمعرات کو انقرہ میں اعلیٰ سطح اسٹریٹجک تعاون کونسل کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان ’’ابدی دوستی اور تعاون‘‘ کے معاہدے کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر اجلاس کا انعقاداہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔

اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی روابط کی تیز رفتار پیش رفت اور عالمی امور پر یکساں مؤقف پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ، ترک ریاستوں کی تنظیم، اسلامی تعاون تنظیم، اقتصادی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی و علاقائی فورمز پر باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پارلیمانی سطح پر تعلقات، بالخصوص دوستی گروپس کے ذریعے روابط میں اضافے کو بھی سراہا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ دوطرفہ تجارت کے حجم اور ترک کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور کاروباری اداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے آئندہ برسوں میں باہمی تجارت کو بڑھا کر 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا، جس کے لیے ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت اشیاء کی فہرست میں توسیع پر بھی غور کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، صنعتی تعاون کے نئے ترجیحی شعبے بھی طے کیے گئے۔

اجلاس میں علاقائی سطح پر تعاون کے وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ سال کے اختتام تک ازبکستان کے تمام صوبوں سے وفود ترکی کا دورہ کریں گے تاکہ مشترکہ منصوبوں پر کام کیا جا سکے۔

زراعت، باغبانی، صحت اور طبی سیاحت کے شعبوں میں ترکیہ کے تجربات سے استفادہ کرنے بھی پر زور دیا گیا۔ سیاحت کے فروغ، ثقافتی سرگرمیوں، تھیٹر فیسٹیولز، ثقافتی ہفتوں، تاریخی فلموں کی مشترکہ تیاری اور ثقافتی ورثے کی بحالی میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

تعلیمی شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے رواں برس بہار میں بخارا میں چوتھے ریکٹرز فورم کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کے شریک چیئرمینز کی رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔

اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک کی حکومتوں کو فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے ایک مشترکہ ’’روڈ میپ‘‘ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی اور مشترکہ اعلامیہ اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت تعاون کے طریقہ کار سے متعلق فیصلے پر دستخط کیے گئے۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے دوطرفہ معاہدات اور یادداشتوں کے ایک پیکج پر بھی دستخط کیے گئے۔ ان معاہدات میں صحت، تعلیم اور فوجی طب کے شعبوں میں تعاون، اقتصادی اور مالی اشتراک، کان کنی کی صنعت میں شراکت، بین الاقوامی ٹرانسپورٹ راہداریوں کی ترقی، اور خصوصی اقتصادی زونز میں تعاون شامل ہے۔

دونوں ممالک نے جوہری تحفظ، جسمانی سیکیورٹی، ضمانتوں اور شعاعی تحفظ کے شعبے میں تعاون اور معلومات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ ہجرت میں سہولت فراہم کرنے اور شہریوں کی وطن واپسی سے متعلق تعاون، ازبکستان کی مذہبی امور کی کمیٹی اور ترکی کے مذہبی امور کے ادارے کے درمیان بین الحکومتی معاہدہ بھی طے پایا۔

مزید برآں، دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان 2026 تا 2027 کے لیے تعاون پروگرام، ازبکستان کی لائٹ انڈسٹری ڈیولپمنٹ ایجنسی اور ترکی کی اعلیٰ تعلیمی کونسل کے درمیان مفاہمتی یادداشت، اور ثقافت کے شعبے میں 2026 تا 2027 کے لیے تعاون کے منصوبے پر بھی دستخط کیے گئے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر شوکت مرزا ئیوف نے اپنے خطاب کے آغاز میں ترکی کے صدر کی جانب سے شاندار مہمان نوازی اور کونسل کے تحت ہونے والے مؤثر اور نتیجہ خیز مذاکرات پر دلی شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی نے حالیہ برسوں میں مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور نہ صرف مسلم دنیا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک باوقار مقام حاصل کیا ہے۔ صدر مرزا ئیوف نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ازبکستان اور ترکی کے درمیان دوستی اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تعلقات ایک نئے اور مضبوط مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جب کہ مشترکہ منصوبوں کی تعداد 2 ہزار 200 سے زیادہ ہو گئی۔ اس دوران ازبکستان میں ترک سرمایہ کاری کا مجموعی حجم تقریبا 10 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان ہفتہ وار تقریبا 100 فضائی پروازیں چلائی جا رہی ہیں، جب کہ ترک کمپنیوں کی شراکت سے 9 ارب ڈالر کے منصوبوں کا ایک جامع پورٹ فولیو تشکیل دیا گیا ہے۔

رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسٹریٹجک تعاون کونسل کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے اور حکومتوں کے درمیان کمیشن اور اسٹریٹجک پلاننگ گروپ کے مؤثر استعمال کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

دونوں صدور نے تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے، ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت اشیاء کی فہرست بڑھانے اور اہم اقتصادی شعبوں میں صنعتی تعاون کو مضبوط بنا کر آئندہ برسوں میں باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں