دلخراش سانحات؛ سمبڑیال ڈرائی پورٹ کنٹینر دھماکے سے سانحہ گل پلازہ تک

انسانوں کی تاریخ میں رونماہونیوالے کچھ حادثات بلکہ دلخراش سانحات محض دوچار دن کی بدانتظامی نہیں بلکہ برسوں کی مجرمانہ غفلت اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا شاخسانہ ہوتے ہیں اوران کے نتیجہ میں محض چندسو گھر انوں میں نہیں بلکہ ملک بھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ پاکستان میں پیش آنیوالے دوالمناک اوراندوہناک سانحات آج راقم کاموضوع ہیں، ”ایک طرف پاکستان کے سنجیدہ شہری آج بھی2003ء میں سمبڑیال ڈرائی پورٹ کی حدودمیں ہونیوالے دھماکے میں انسانوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر رنجیدہ،مضطرب،مشتعل اورانصاف کے منتظر ہیں“ جبکہ دوسری طرف حالیہ گل پلازہ سانحہ نے 23برس بعد سانحہ سمبڑیال ڈرائی پورٹ کا زخم بلکہ ناسورپھر تازہ کردیا ہے۔ یہ دونوں دلخراش سانحات ہمیں جھنجوڑرہے ہیں،ہمارے ملک میں عارضی یاسطحی اقدامات، رسمی کارروائی،محض لفاظی یاشعبدہ بازی سے انسانی جانوں کاضیاع نہیں روکاجاسکتا۔

سانحہ گل پلازہ کو محض ایک حادثہ کہنا انصاف اوراخلاقیات کے منافی ہوگا۔ یہ سانحہ ایک طویل بدانتظامی اوربدنیتی کانتیجہ تھا۔ جس میں انتباہ بھی تھا، مہلت بھی اور اصلاح احوال کی ضرورت بھی تھی لیکن بدقسمتی سے ارباب اختیار کا اِرادہ نہیں تھا۔ گل پلازہ ایک مصروف کاروباری مرکز تھا جہاں روزانہ ہزاروں زندہ انسان روزگار اور ضروریاتِ زندگی کیلئے آتے جاتے تھے۔ تاہم پچھلے کئی ماہ سے اس پلازہ کی دیواروں کے پیچھے انتہائی زور سے شورمچاتے خطرات موجود تھے اوربروقت ان کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔ حالیہ دلخراش سانحہ سے قبل بھی گل پلازہ میں ایک اور اندوہناک حادثہ پیش آ یا تھا۔ اگرچہ اس وقت جانی نقصان بڑے پیمانے پر نہیں ہواتھا لیکن ماہرین نے فائر سیفٹی، ایمرجنسی اخراج کے راستوں، بجلی کے نظام اور مجموعی حفاظتی انتظامات پرسنجیدہ سوالات اٹھائے تھے۔ یہ وہ پل تھا جب متعلقہ محکمے چاہتے توسرکاری سطح پر اس عمارت کو محفوظ بنانے یا بلڈوز کرنے کادوٹوک فیصلہ کر سکتے تھے۔ لیکن ہوا کیا، چند رسمی کارروائیاں، کچھ کاغذات پرانسانیت سے عاری تاثرات اور پھر حسب معمول گہری بلکہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی گئی۔ اس کا پیشہ ورانہ انداز سے تکنیکی آڈٹ نہیں کیاگیا، حفاظتی نظام کی جانچ نہیں کی گئی اور وہاں کے دکانداروں سمیت شہریوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ یوں ایک واضح انتباہ کودانستہ نظرانداز کر دیا گیا۔

جنوری 2026 ء کے دوران جب گل پلازہ میں المناک اوراندوہناک سانحہ پیش آیا تو نقصان صرف عمارت یا کاروبار تک محدود نہیں رہا بلکہ اس باربیسیوں انسانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ ممکنہ خطرہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے متعددخاندان اجاڑدیے گئے جبکہ ریاستی ادارے تحقیقات اور انکوائری کمیٹیوں کے اعلانات تک محدود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر پہلے واقعہ کے بعد بروقت،درست اورسخت ایکشن لیاجاتا تو قوم کوہرگز یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ مقامی ذرائع کے مطابق شہباز نورنامی شخص ان دنوں اپنے ہر متنازعہ اورمذموم ”کام“کیلئے ایک سیکٹر کمانڈر، ایک ڈائریکٹر ایف آئی اے،ایک جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی، ایک عزت دار صحافی اورایک نیک نام سابقہ اٹارنی جنرل کا نا م استعمال کرتے ہوئے کسٹم حکام کو خوفزدہ اور بلیک میل کرتا ہے۔ یہ ایجنٹ مافیاکاایک ممبر جو ابتدا ء میں لبرٹی مارکیٹ لاہور کے دکانداروں کو شاپربیگ سپلائی کرتا تھا اور بعد ازاں کسٹم ایجنٹ بنا، اُن دو کنٹینرز کی کلیئرنس کی ذمہ داری سنبھال رہا تھا جو بعد ازاں آتش گیر اور دھماکہ خیز مواد کے سبب دھماکے کانشانہ بنے تھے۔ماضی کے فوجی حکمران پرویز مشرف کے ایک معتمد ساتھی اور بااثر شخصیت سے مبینہ قربت کو بھی مذکورہ ایجنٹ کیلئے مبینہ طورپر ایک مضبوط سفارشی عنصر کے طور پر دیکھا گیاتھا۔ یہ وہ سیاسی و انتظامی اثر و رسوخ تھا جس سے تفتیشی کارروائی روک دی گئی تھی۔ اس ابہام سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ طاقت، تعلقات اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے نتیجہ میں بااثرمجرمان تفتیشی نظام کوناکام بناسکتے ہیں۔ سانحہ سمبڑیال کے متاثرہ خاندان آج بھی یہ سوال اٹھاتے اورقومی ضمیر کوجھنجوڑتے ہیں کہ ان کے عزیزواقارب کاقاتل ابھی تک قانون کی گرفت اورانصاف کے کٹہرے میں کیوں نہیں آیا۔

سمبڑیال ڈرائی پورٹ پر 4 فروری 2003 کودلخراش سانحہ پیش آیاتھا۔ وہ دو کنٹینرز جو بظاہر عام تجارتی سامان کے طور پر ظاہر کئے گئے تھے،وہ دونوں کلیئرنس کے مرحلے میں اوپن کئے جا رہے تھے تو اچانک شدید دھماکے سے اہلکاروں سمیت متعدد شہریوں نے جام شہادت نوش کیا۔دھماکے سے نہ صرف ڈرائی پورٹ بلکہ ملحقہ سکول، مکانات اور دکانیں بھی شدید متاثر ہوئی تھیں۔ دھماکے نے عمارتوں کی دیواریں گرادیں اور انسانوں کے پرخچے فضا میں بکھیر دیے تھے۔ سانحہ سمبڑیال میں بیسیوں قیمتی جانوں کاضیاع ہوا،ان میں کسٹمز اہلکار، مزدور اورسکول کے معصوم بچے بھی شامل تھے، جبکہ 35 سے زائد افراد کو شدید زخم آئے۔ یہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں بلکہ وہ خاندان ہیں جو آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔اب بھی وقت ہے حکمران مرکزی مجرم کوقرارواقعی سزادیں اور شہیدوں کے ورثاکی مالی مدد سے ان کے دیرینہ احساس محرومی کاخاطرخواہ مداواکریں۔اس وقت تحقیقات سے معلوم ہواتھا کہ بدنیتی سے کنٹینرز میں موجود سامان کی ساخت یانوعیت چھپائی گئی تھی۔ رپورٹوں کے مطابق ان میں آتش گیر اور دھماکہ خیز مواد موجود تھا، جس کو دانستہ یا مجرمانہ غفلت کے باعث عام اشیاء کے طور پر ڈ کلیئر کیا گیاتھا۔ میں پوچھتا ہوں اگر دستاویزات مبہم یا مشکوک تھیں تو کنٹینرز کو کلیئرنس کے حساس مرحلے تک کیوں پہنچایا گیاتھا۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تفتیش کا دائرہ امپورٹر، کلیئرنگ ایجنٹ اور دیگر سہولت کاروں تک کیوں نہیں پھیلایا گیا۔مذکورہ دونوں کنٹینرز ایک رجسٹرڈ امپورٹر کے نام پر منگوائے گئے تھے، لیکن عملی طور پر درآمدی عمل ایک تیسرے شخص کے ذریعے انجام پاناایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کس طرح فرنٹ نام استعمال کرتے ہوئے خطرناک سامان درآمد کیا جا سکتا ہے۔

سمبڑیال ڈرائی پورٹ اور گل پلازہ سے اندوہناک اورالمناک سانحات درحقیقت ایک ہی خونی نصاب کے دو مختلف باب ہیں۔یادرکھیں دانستہ یادباؤ کے تحت انتباہ کو نظرانداز کرنا،بدنیتی،بدانتظامی کامظاہرہ اور احتساب کافقدان مجرمان کوقانون کی گرفت سے بچاتاجبکہ معاشرے میں مجرمانہ سرگرمیوں کوفروغ دیتا ہے۔ دونوں سانحات کوباریک بینی سے دیکھااورسمجھاجائے تو سرکاری محکمے بروقت اوردرست اقدامات کرنے میں ناکام رہے لہٰذاء متاثرہ اورغمزدہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظراورمتلاشی ہیں۔ بدقسمتی سے اس قسم کے سانحات کے بعد بیشتراوقات نچلے درجے کے اہلکاروں پرملبہ گرادیا جاتا ہے، جبکہ اصل مجرمان،بااثر افسران، مالکان اور سہولت کار جو برسوں تک خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں انہیں سزا سے بچالیاجاتا ہے۔ یہ دونوں المناک سانحات قومی ضمیر کوجھنجوڑنے کیلئے کافی ہیں،میں پھرکہتاہوں اس قسم کے سانحات اچانک پیش نہیں آتے، وہ اپنی آمد بارے بار بار خبردار کرتے ہیں، دستک اورمہلت بھی دیتے ہیں لیکن اگرریاست کے خوابیدہ حکام ان کی دستک پرکان نہ دھریں تو انتباہ المیہ بن جاتا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ سانحہ سمبڑیال ڈرائی پورٹ یاسانحہ گل پلازہ میں کس نے کس کوناحق ماردیا، سلگتاسوال یہ ہے کہ کیا اس باراورآئندہ واقعی سانحات میں ملوث عناصرکوقانون کی گرفت میں اوران سے جواب یاحساب لیا جائے گا یاپھراللہ نہ کرے مزید کسی دلخراش سانحہ تک ہمارے سرکاری محکمے اورحکام خاموش بیٹھے رہیں گے۔عوام انتظارکریں،اللہ نہ کرے آئندہ کسی دوسرے شہرمیں کوئی نیاسانحہ رونما ہوگا۔ یہ روداد صرف ایک ڈرائی پورٹ یاایک شاپنگ پلازے کی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی،بدنامی اوربدانتظامی کانوحہ ہے۔ہمارے ملک میں انسانوں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں،آئندہ بھی مٹھی بھرسرمایہ داراپنے بااثر آقاؤ ں کے آشیرباد سے بیگناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہیں گے۔ کسی بھی سانحہ کے مرکزی کردار کوسزانہ ملنا اس سے بڑاسانحہ ہے، میں اپنے آئندہ کالم میں سانحہ سمبڑیال ڈرائی پورٹ کنٹینر دھماکے بارے مزید ہوشربا تفصیلات سپردقرطاس کروں گا۔یادرکھیں ہماری ریاست صرف بروقت اورسخت”سزاؤں“ سے مجرمانہ ”خطاؤں“ اوردلخراش سانحوں کے آگے بندباندھ سکتی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں