‘تمام معاہدوں کی ماں’، بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ

بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ایک تاریخی اور بڑے تجارتی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے تحت دونوں فریقین نے دنیا کا ایک بڑا آزاد تجارتی زون قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی مجموعی آبادی تقریبا دو ارب افراد پر مشتمل ہوگی۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈر لیئن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں ملاقات کے بعد اس معاہدے کا اعلان کیا۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈر لیئن نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ بھارت اور یورپی یونین نے ایک ایسا معاہدہ طے کیا ہے جو تاریخ ساز حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ معاہدہ دونوں خطوں کے عوام اور معیشتوں کے لیے بے شمار فوائد لے کر آئے گا۔ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ تقریبا دو دہائیوں پر محیط مذاکرات کے بعد یہ اہم تجارتی معاہدہ پایۂ تکمیل تک پہنچا ہے، جو بھارت کے 1.4 ارب عوام اور یورپی یونین کے لاکھوں شہریوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

نریندر مودی کے مطابق، یہ معاہدہ عالمی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریبا 25 فیصد حصے کا احاطہ کرے گا، جبکہ بھارت کو ٹیکسٹائل، قیمتی پتھروں، زیورات اور چمڑے کی صنعت جیسے شعبوں میں نمایاں فائدہ حاصل ہوگا۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کی جانب سے اب تک طے کیا جانے والا سب سے جامع اور وسیع تجارتی معاہدہ ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی یونین اور بھارت دونوں امریکا کی جانب سے عائد کردہ تجارتی محصولات اور چین کی برآمدی پابندیوں کے تناظر میں نئی منڈیوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں بھارت، جو دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، اپنی بڑی اور اب تک نسبتا محفوظ منڈی کو 27 یورپی ممالک کے لیے آزاد تجارت کے لیے کھول دے گا، جبکہ یورپی یونین کو بھارتی منڈی میں اولین فائدہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

معاہدے کے تحت یورپی یونین کی جانب سے بھارت کو برآمد کی جانے والی 96.6 فیصد اشیا پر محصولات یا تو مکمل طور پر ختم کر دیے جائیں گے یا نمایاں طور پر کم کیے جائیں گے، جس سے یورپی کمپنیوں کو سالانہ تقریبا چار ارب یورو کے محصولات کی بچت ہوگی۔ ان اشیا میں مشینری، کیمیکل اور ادویات شامل ہیں۔ گاڑیوں پر ٹیکس مرحلہ وار کم کر کے 10 فیصد کیا جائے گا، تاہم اس کے لیے سالانہ 2 لاکھ 50 ہزار گاڑیوں کی حد مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح یورپی سروس فراہم کرنے والوں کو بھارت میں مالیاتی اور بحری خدمات جیسے اہم شعبوں میں خصوصی رسائی دی جائے گی۔ ہوائی جہازوں اور خلائی مصنوعات پر عائد تقریبا تمام محصولات ختم کر دیے جائیں گے، جبکہ یورپی شراب، مشروبات اور بیئر پر بھی محصولات میں نمایاں کمی کی جائے گی۔ پھلوں کے جوس اور تیار شدہ غذائی اشیا پر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں 2032 تک بھارت کو یورپی برآمدات دوگنی ہونے کی توقع ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان اشیا کی تجارت کا حجم 120 ارب یورو تک پہنچ چکا تھا، جبکہ خدمات کے شعبے میں تجارت مزید 60 ارب یورو رہی۔

معاشی ماہرین کے مطابق، یہ معاہدہ بھارت اور یورپی یونین دونوں کے لیے ایک نئی امید ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی تجارت یک طرفہ فیصلوں اور تجارتی تنازعات کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا، جبکہ یورپی ممالک کو ایک وسیع اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں