اسلام آباد میں سماجی کارکن اور وکیل ایمان زینب مزاری ہازر اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کو جمعے کے روز اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ مبینہ طور پر ضلعی عدالت جا رہے تھے۔ گرفتاری کے بعد صحافتی، سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا اور دونوں وکلا کے لیے فوری انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو آج متنازع ٹویٹس کیس میں ٹرائل کورٹ میں پیش ہونا تھا، تاہم وہ گزشتہ روز بار بار طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ گرفتاری پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایمان اور ہادی کی گرفتاری کو عدالتی ہراسانی اور دباؤ کی تازہ کڑی قرار دیا۔ ایمنسٹی کے مطابق، دونوں کو عدالت جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور عینی شاہدین نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے غیر ضروری طاقت استعمال کی اور گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی، جس سے ان کی سلامتی پر سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ تنظیم نے فوری رہائی اور انسانی حقوق کے دفاع پر مبنی تمام مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے فوری طور پر سامنے لانے کا مطالبہ کیا، جبکہ عورت مارچ اسلام آباد نے سول سوسائٹی، طلبہ، وکلا اور شہریوں سے اس گرفتاری کے خلاف مزاحمت کی اپیل کی۔
اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ عدالت جاتے ہوئے وکلا کی گرفتاری ریاستی اختیارات کے غلط استعمال اور قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی کی عکاسی کرتی ہے، جو منصفانہ ٹرائل اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں کو فوری طور پر ضمانت دی جائے اور اپنے دفاع کا حق دیا جائے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے بھی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شہری آزادیوں پر حملہ قرار دیا۔ اتحاد کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ حقوق مسلسل پامال کیے جا رہے ہیں۔ ٹی ٹی اے پی کے مطابق، ایسی گرفتاریاں نہ صرف جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہیں بلکہ معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کو فروغ دیتی ہیں۔ اتحاد نے آئین و قانون کی بالادستی یقینی بنانے، سیاسی انتقام بند کرنے اور تمام سیاسی و سماجی کارکنوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بھی ایوان میں کہا کہ سیاسی نظریات کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنانا آئین اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادیِ اظہار اور بنیادی شہری حقوق مسلسل سلب کیے جا رہے ہیں اور طاقتور طبقات کے مفادات کے لیے قانون کا استعمال قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی فوری رہائی اور ان کی گرفتاری کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
سینئر صحافی اور جیو نیوز پر کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے ایکس پر لکھا کہ ‘باالآخر ایمان اور ہادی گرفتار ہوئے۔ یہ گرفتاری اس جوڑےکو مزید طاقتور اور قابلِ عزت بنا دے گی۔